صحبت پور (یو این اے )پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات صحبت پور کے عوام تک نہ پہنچ سکے۔ تیل سستا ہونے کے باوجود ٹرانسپورٹرز نے کرایوں میں کمی کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے، جبکہ دوسری جانب خودساختہ مہنگائی کے جن نے غریب عوام کا جینا محال کر دیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث مسافروں اور عام شہریوں کو لوٹا جا رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق صحبت پور سے ڈیرہ اللہ یار تک محض 17 کلومیٹر کا فاصلہ ہے، لیکن ویگن مالکان مسافروں سے 150 روپے کرایہ وصول کر رہے ہیں۔ تیل کی قیمتیں گرنے کے باوجود ٹرانسپورٹرز عوام کو ریلیف دینے کے بجائے اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف ہیں۔ مسافروں نے شکایت کی ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے کرایہ ناموں پر عملدرآمد کرانے والا کوئی نہیں، جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹرز اپنی مرضی کے ریٹ وصول کر رہے ہیں۔شہر میں خودساختہ مہنگائی کی صورتحال بھی انتہائی ابتر ہو چکی ہے۔ مارکیٹ میں بکرے کا گوشت 2500 سے 3000 روپے فی کلو، جبکہ مرغی کا گوشت 700 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ خشک دالیں اور پھل تو عام آدمی کی پہنچ سے کوسوں دور ہو چکے ہیں، جبکہ چینی اور آٹے کی مصنوعی قلت پیدا کر کے انہیں بھی مہنگے داموں بیچا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں نے غریب کے چولہے ٹھنڈے کر دیے ہیں۔ انہوں نے وزیراعلی بلوچستان اور کمشنر نصیر آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ صحبت پور میں فوری طور پر پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو فعال کیا جائے اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
You might also like