Daily Mashriq
Mashriq Newspaper

گوادر کی مقامی آبادی مصنوعی قلت کے بہانے مہنگے داموں ایل پی جی خریدنے پر مجبور

گوادر( این این آئی)گوادر ، ایران 250 بارڈر سے آنے والی ایل پی جی سپلائی بین الصوبائی منڈیوں تک محدود، مقامی آبادی مصنوعی قلت کے بہانے مہنگے داموں ایل پی جی خریدنے پر مجبور،گوادر ضلع بھر میں قیمت 400 روپے فی کلو تک جا پہنچی،متوسط اور غریب طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ ،گوادر سے روزانہ ٹنوں ایل پی جی بین الصوبہ منتقل ،شہریوں کا مصنوعی قلت اور منافع خوری کے خلاف کارروائی کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق ایران سے ملحقہ 240 بارڈر کے ذریعے روزانہ درجنوں باو¿زر ٹنوں کے حساب سے ایل پی جی لوڈ کرکے ملک کے مختلف صوبوں کو منتقل کی جا رہی ہے تاہم حیران کن طور پر ضلع گوادر کے عوام کو اسی بنیادی ایندھن کی شدید قلت اور غیر معمولی مہنگائی کا سامنا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایران بارڈر سے آنے والی ایل پی جی کی بڑی مقدار بین الصوبائی منڈیوں تک پہنچائی جا رہی ہے جبکہ مقامی سطح پر مصنوعی قلت پیدا کرکے صارفین کو مہنگی گیس خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ مقامی مارکیٹ میں ایل پی جی کی قیمت 400 روپے فی کلوگرام تک پہنچ چکی ہے جس نے متوسط اور غریب طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق روزانہ درجنوں باو¿زر گوادر کے راستے ٹنوں کے حساب سے ایل پی جی لے کر دیگر علاقوں کو روانہ کیے جاتے ہیں لیکن ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ریگولیٹری ادارے مقامی ضرورت کو یقینی بنانے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر ضلع سے اتنی بڑی مقدار میں ایل پی جی باہر منتقل ہو رہی ہے تو پھر مقامی مارکیٹ میں قلت کا جواز کیا ہے،عوامی حلقوں کے مطابق ایسی صورتحال سپلائی چین میں عدم توازن، نگرانی کے فقدان اور ممکنہ ذخیرہ اندوزی یا منافع خوری کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگر مقامی ضروریات کو نظرانداز کرکے صرف منافع کے حصول کے لیے ایل پی جی کو دیگر صوبوں میں منتقل کیا جا رہا ہے تو یہ نہ صرف صارفین کے معاشی استحصال کے مترادف ہے بلکہ مارکیٹ ریگولیشن کے نظام پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ شہریوں نے وفاقی اور صوبائی حکومت، اوگرا اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ گوادر میں ایل پی جی کی دستیابی اور قیمتوں کا فوری جائزہ لیا جائے، مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے اور مقامی آبادی کو مناسب نرخوں پر ایل پی جی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More