اوستا محمد : اوستا محمد میں فیز ٹو واٹر سپلائی منصوبے کے باوجود شہر کے مختلف وارڈز میں پینے کے پانی کی شدید قلت نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کردیا متعدد علاقوں کے مکین پانی کی بوند بوند کو ترس گئے، گھریلو ضروریات پوری کرنا بھی دشوار ہوگیا۔شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر کے مختلف وارڈز میں پانی کی فراہمی کا نظام مسلسل متاثر ہے کہیں کئی روز سے پانی نہیں آ رہا تو کہیں انتہائی کم پریشر کے باعث گھروں تک پانی پہنچ ہی نہیں پاتا۔ پینے کے پانی کے حصول کے لیے شہریوں کو دور دراز علاقوں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے جبکہ بعض خاندان مہنگے داموں پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔عوامی حلقوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیز ٹو واٹر سپلائی منصوبے سے شہریوں کو امید تھی کہ پانی کا دیرینہ مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل ہوگا تاہم مختلف علاقوں میں پانی کی عدم فراہمی نے منصوبے کی افادیت پر سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ شدید گرمی میں پانی کی قلت نے شہریوں خصوصاً خواتین بچوں اور بزرگوں کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔شہریوں نے کہا کہ پینے کا صاف پانی کوئی عیاشی نہیں بلکہ بنیادی انسانی ضرورت ہے حکومت اور متعلقہ محکمے عوام کو اس بنیادی سہولت کی فراہمی یقینی بنانے کے پابند ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فیز ٹو واٹر سپلائی کے نظام کا فوری تکنیکی معائنہ کرایا جائے پانی کی بندش کی وجوہات سامنے لائی جائیں اور تمام وارڈز میں مساوی بنیادوں پر پانی کی فراہمی بحال کی جائے۔عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر اوستا محمد محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر پانی کی فراہمی شروع کیا جائے مزید شہریوں نے خبردار کیا کہ اگر پانی کا بحران فوری حل نہ کیا گیا تو عوام شدید احتجاج پر مجبور ہوں گے۔
You might also like
