جیکب آباد : بلوچستان اور سندھ کی سرحدی پٹی کے قریب ٹھل کے مقام پر تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے افراد کی کوچ خوفناک ٹریفک حادثے کا شکار ہوگئی، جس کے نتیجے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 12 افراد جاں بحق جبکہ 20 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ حادثے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا جبکہ امدادی اداروں، پولیس اور مقامی افراد نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کردیں ذرائع کے مطابق تبلیغی جماعت کے افراد کو لے جانے والی کوچ بلوچستان اور سندھ کی سرحدی پٹی کے قریب ٹھل کے علاقے سے گزر رہی تھی کہ اچانک حادثے کا شکار ہوگئی۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی مقامی انتظامیہ، پولیس اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور کوچ میں پھنسے افراد کو نکالنے کا عمل شروع کردیا گیا حادثہ اس قدر شدید تھا کہ اس کے نتیجے میں متعدد افراد موقع پر ہی جاں بحق یا شدید زخمی ہوئے۔ امدادی کارکنوں اور مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو حادثے کا شکار کوچ سے نکال کر قریبی اسپتال منتقل کیا، جبکہ شدید زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے طبی مراکز منتقل کیا گیاحادثے کے بعد ٹھل اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی اور اسپتال کے ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر عملے کو فوری طور پر طلب کرلیا گیا۔ اسپتال انتظامیہ نے زخمیوں کے علاج کے لیے ہنگامی بنیادوں پر انتظامات کیے، جبکہ شدید زخمیوں کی حالت کے پیش نظر انہیں مزید علاج کے لیے دیگر بڑے طبی مراکز منتقل کیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے ذرائع کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والے بعض افراد کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کی حتمی تعداد اور شناخت کے حوالے سے متعلقہ حکام کی جانب سے مزید معلومات سامنے آنے کا انتظار ہےحادثے کے فوری بعد پولیس نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے شروع کردیئے، جبکہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے بھی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور مختلف پہلوں کا جائزہ لیا جارہا ہے جاں بحق افراد کی لاشوں کو ضروری قانونی کارروائی اور شناخت کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے جاں بحق افراد کے لواحقین سے رابطے اور شناخت کے عمل کو بھی آگے بڑھایا جارہا ہے، جبکہ زخمیوں کے اہل خانہ کو بھی حادثے سے متعلق اطلاع فراہم کرنے کی کوششیں جاری ہیں حادثے کی اطلاع ملنے کے بعد علاقے کے لوگوں کی بڑی تعداد بھی جائے وقوعہ اور اسپتال پہنچ گئی۔ مقامی افراد نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کرنے میں انتظامیہ اور امدادی ٹیموں کی مدد کی اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کو مختلف نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں اور متعدد زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ ڈاکٹروں اور طبی عملے کی جانب سے زخمیوں کی جان بچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جارہے ہیں حادثے کے باعث علاقے میں کچھ دیر کے لیے ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی، تاہم پولیس اور متعلقہ اداروں نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کو کنٹرول کیا اور امدادی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ٹریفک کی بحالی کے لیے اقدامات کیے واقعے کے بعد مقامی انتظامیہ نے اسپتال میں تمام ضروری طبی سہولیات اور ادویات کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر طبی عملے کو بھی الرٹ کردیا گیا ہے تاکہ زخمیوں کو بروقت اور مناسب طبی امداد فراہم کی جاسکے دوسری جانب تبلیغی جماعت کے افراد کے حادثے کا شکار ہونے پر مذہبی و سماجی حلقوں میں بھی گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جارہا ہے۔ شہریوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے انتظامیہ اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی مکمل وجوہات تحقیقات کے بعد سامنے آئیں گی۔ حادثے میں کوچ کو پہنچنے والے نقصان، سڑک کی صورتحال، ڈرائیور کی حالت اور دیگر ممکنہ عوامل کا بھی جائزہ لیا جارہا ہےحکام کے مطابق حادثے میں 12 افراد کے جاں بحق اور 20 سے زائد کے زخمی ہونے کی ابتدائی اطلاعات ہیں، تاہم زخمیوں کی حالت اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد جانی نقصان کی حتمی تفصیلات جاری کی جائیں گی واقعے کے بعد ٹھل اور گردونواح میں افسوس کی فضا قائم ہے، جبکہ اسپتال میں جاں بحق افراد کے لواحقین اور زخمیوں کے عزیز و اقارب کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی جارہی ہے مزید اطلاعات اور سرکاری تفصیلات موصول ہونے پر حادثے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کی تعداد، شناخت اور حادثے کی وجوہات کے حوالے سے صورتحال مزید واضح ہوسکے گی۔
You might also like
