چمن خصوصی بچوں کیلئے تعلیمی اکیڈمی کا قیام سماجی حلقوں کا خیرمقدم – Daily Mashriq Newspaper Quetta
Mashriq Newspaper

چمن خصوصی بچوں کیلئے تعلیمی اکیڈمی کا قیام سماجی حلقوں کا خیرمقدم

کوئٹہ: معروف سماجی و ادبی تنظیم شمشاد رائٹرز فورم پاکستان کے مرکزی صدر اور ممبر یوتھ پارلیمنٹ آف پاکستان حافظ محمد صدیق مدنی ، مرکزی جنرل سیکرٹری غلام محمد مخلص ، نائب شیر محمد سلیمان خیل ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری راز محمد ترین ، سیکرٹری اطلاعات حافظ سیف الرحمان صدیق نے ضلع چمن میں گونگے اور بہرے معذور بچوں کے لیے تعلیمی اکیڈمی کے قیام و افتتاح کو ایک خوش آئند اور قابلِ تحسین اقدام قرار دیتے ہوئے دلی مسرت اور شکریہ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی معاشرے کی حقیقی ترقی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہاں ہر فرد کو بلاامتیاز ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں۔ چمن میں طویل عرصے سے معذور بچوں خصوصا گونگے اور بہرے بچوں کے لیے تعلیمی سہولیات کا فقدان ایک سنگین مسئلہ تھا جس کے باعث یہ بچے تعلیم اور معاشرتی ترقی کے مواقع سے محروم رہے۔ انہوں نے کہا کہ شمشاد رائٹرز فورم پاکستان نے اس اہم مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے گزشتہ ماہ پرنٹ و سوشل میڈیا پر بھرپور آواز اٹھائی جس کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ انہوں نے بلوچستان اسمبلی کے سپیکر کیپٹن عبد الخالق اچکزئی، ڈپٹی کمشنر ضلع چمن حبیب احمد بنگلزئی اور یونیسف کے تعاون سے جمال عبد الناصر شہید اسٹیڈیم چمن میں اس تعلیمی اکیڈمی کے قیام کو عملی پیش رفت قرار دیا۔ حافظ محمد صدیق مدنی نے کہا کہ یہ اکیڈمی نہ صرف معذور بچوں کے لیے تعلیم کے دروازے کھولے گی بلکہ انہیں خوداعتمادی، ہنر اور سماجی شعور سے بھی آراستہ کرے گی جس سے وہ معاشرے کے باوقار اور مفید شہری بن سکیں گے۔ انہوں نے اس اقدام پر ڈپٹی کمشنر چمن، پاکستان مسلم لیگ ن ضلع چمن کے صدر حاجی عطا اللہ اچکزئی، یونیسیف کے ضلعی کوآرڈینیٹر جمیل احمد کاکڑ، مدرس امیر فیض محمد اور دیگر منتظمین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کاوش خدمتِ خلق کی روشن مثال ہے۔ حافظ محمد صدیق مدنی نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ اس عارضی اقدام کو مستقل بنیادوں پر استوار کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں معذور بچوں کے لیے ایک باقاعدہ سرکاری تعلیمی ادارے کی منظوری دی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ بچے اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ متعلقہ حکام اس اہم معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.