پنجگور (یو این اے )پنجگور میں محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بہتر کارکردگی دکھانے والے عارضی ملازمین کو فارغ کر کے ان کی جگہ مبینہ طور پر سفارشی اور من پسند افراد کو بھرتی کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، جس کے خلاف متاثرہ نوجوانوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے خود سوزی کی دھمکی دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق، سال 2025 میں محکمہ صحت بلوچستان کی واضح پالیسی کے تحت 32 کے قریب مرد و خواتین کو گریڈ 1 سے 15 تک کنٹریکٹ پر بھرتی کیا گیا تھا، جس میں یہ شرط درج تھی کہ اچھی کارکردگی دکھانے والوں کی ملازمت میں توسیع کر کے انہیں مستقل کیا جائے گا۔ تاہم، ایک سال مکمل ہونے پر ڈپٹی کمشنر اور ڈی ایچ او پنجگور نے بہترین کارکردگی کے باوجود ان نوجوانوں کو فارغ کر دیا ہے۔متاثرہ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ حکومتِ بلوچستان کی پالیسی کے برعکس ضلعی انتظامیہ اپنی ذاتی پسند و ناپسند اور انا کی بنیاد پر تعلیم یافتہ بے روزگاروں کی تذلیل کر رہی ہے۔ بے روزگاری سے تنگ آکر ان نوجوانوں نے اپنے تعلیمی اسناد کے ساتھ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس کے سامنے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور محکمہ صحت کے اعلی حکام اس "ملازمت کش” پالیسی کا فوری نوٹس لیں۔ متاثرین نے واضح کیا کہ اگر انہیں دوبارہ بحال نہ کیا گیا تو وہ سخت احتجاج پر مجبور ہوں گے، کیونکہ ضلعی افسران اپنے من پسند لوگوں کو کھپانے کے لیے میرٹ کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔
You might also like