Daily Mashriq
Mashriq Newspaper

خضدار‘دفعہ 144 نافذ ‘بھوسے کی ضلع سے باہر منتقلی پر مکمل پابندی عائد

خضدار(بیورورپورٹ)خضدارانتظامیہ کی جانب سے دفعہ 144 نافذ کرکے بھوسے کی ضلع سے باہر منتقلی پر مکمل پابندی عائد کرنے کے باوجود بھوسے سے لدے ٹرکوں کی کراچی اور اندرونِ سندھ منتقلی کا سلسلہ بدستور جاری ہےاس کھلے عام قانون شکنی پر مقامی تاجر مالدار اور مال مویشی پال حضرات شدید پریشان ہیں اور انہوں نے فوری مداخلت کا مطالبہ کر دیا ہےذرائع کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر بھوسے سے بھرے درجنوں ٹرک خضدار کے مختلف خفیہ اور غیر متعینہ راستوں سے باہر روانہ کیے جا رہے ہیں کبھی رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے تو کبھی دن دہاڑے ایسے گزراجاتا ہےجیسے کوئی روک ٹوک ہی نہ ہواس غیر قانونی نقل و حرکت کے نتیجے میں خضدار کی مقامی منڈی میں بھوسے کا شدید بحران پیدا ہوگیا ہےجہاں چند ہفتے قبل بھوسہ وافر مقدار میں اور مناسب قیمت پر دستیاب تھاوہاں اب تلاش کرنا بھی مشکل ہوگیا ہےمقامی بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ بھوسے کی قلت کے ساتھ ہی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آرہا ہےایک بوجھو بھوسے کی قیمت نے ایک ہفتے میں دوگنا سے بھی زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا ہےجس نے غریب کسان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہےمال مویشی پال حضرات کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں وہ اپنے جانوروں کے لیے چارے کا انتظام کرنے سے قاصر ہو جائیں گےان کا کہنا ہے کہ جانور بھوک سے نڈھال ہو جائیں گے اور ان کی نسلیں ختم ہونے کے دہانے پر پہنچ جائیں گی شہریوں اور مالداروں نے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض بااثر عناصر مبینہ طور پر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر بھوسہ غیر قانونی طریقوں سے کراچی اور سندھ کے مختلف شہروں کو منتقل کر رہے ہیں ان عناصر کی ملی بھگت سے خضدار کی مقامی منڈی مکمل طور پر متاثر ہو رہی ہے اور مقامی خریداروں کو ناجائز مہنگائی کا سامنا ہےمقامی تاجروں نے ضلعی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ دفعہ 144 پر بلا تفریق اور سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائےانہوں نے مطالبہ کیا کہ بھوسے کی غیر قانونی منتقلی روکنے کیلئے تمام داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی سخت کی جائےچیکنگ کا نظام مو¿ثر بنایا جائے اور رات کے وقت گشت بڑھایا جائے تاکہ خفیہ راستوں کا استعمال بند ہو سکے انتظامیہ ملوث عناصر کے خلاف فوری مقدمات درج کیے جائیں اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے خواہ وہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں شہریوں نے کہا کہ یہ معاملہ صرف بھوسے کا نہیں یہ خضدار کے عوامی مفاد اور مقامی ضروریات کے تحفظ کا سوال ہےخضدار کی معیشت کا ایک بڑا حصہ مال مویشی پر منحصر ہے اور اگر چارے کی قلت ہوئی تو پورا نظام درہم برہم ہو جائے گامقامی لوگوں نے ضلعی انتظامیہ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ وہ ہمارے حق کا تحفظ کرے گی۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More