برطانوی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے علاقائی خطرات کے پیش نظر اسرائیل کے دفاعی اختیارات اور کارروائی کی آزادی پر زور دیا۔
امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق امریکا اور ایران ایک مفاہمتی یادداشت کے قریب پہنچ چکے ہیں، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولے جانے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ یہ بحری راستہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدے میں یہ نکات شامل ہیں کہ امریکا اور اس کے اتحادی ایران یا اس کے اتحادیوں پر حملے سے گریز کریں گے جبکہ ایران بھی پیشگی کارروائی نہ کرنے کا پابند ہوگا۔
دوسری جانب اسرائیل کے اندر اس ممکنہ معاہدے پر اختلافات بھی سامنے آ رہے ہیں، بینی گینٹز نے لبنان میں جنگ بندی کو اسرائیل کی ایک بڑی اسٹریٹجک غلطی قرار دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ اب بھی ایران کے جوہری پروگرام کے مکمل خاتمے اور افزودہ یورینیم کے انخلا کے مطالبات پر سخت مؤقف رکھتے ہیں، جبکہ گفتگو کے دوران امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم کے مؤقف کی حمایت بھی کی۔