چھتر: دی نیڈز بلوچستان اور پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے تعاون سے کسانوں کے عالمی دن کے موقع پر بلوچستان کے 9 اضلاع بشمول نصیر آباد میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ نصیر آباد میں مظاہرے کی قیادت کرتے ہوئے مرکزی نائب صدر عبدالکریم مینگل نے مطالبہ کیا کہ گندم کی کم از کم قیمت 4000 روپے فی من مقرر کی جائے، سرکاری خریداری کا نظام بحال اور نجکاری و کارپوریٹ فارمنگ کا خاتمہ کیا جائے۔ انہوں نے مزارعین کی جبری بے دخلی روکنے اور ماحولیاتی تبدیلیوں، سیلاب اور بے موسمی بارشوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے ہنگامی اقدامات پر زور دیا تاکہ کسانوں کو معاشی بحران سے نکالا جا سکے۔مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ زرعی زمینوں پر قبضے فوری بند کیے جائیں اور زیر زمین پانی کی سطح بہتر بنانے کے لیے چھوٹے ڈیمز تعمیر کیے جائیں۔ کسان رہنماں کا کہنا تھا کہ حکومت زرعی پالیسیوں میں کسانوں کو شامل کرے، زرعی تحقیقاتی مراکز قائم کرے اور کسانوں کی تربیت کے ساتھ ساتھ فصلوں کی بہتر قیمت کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ اس کے علاوہ کسانوں کی مالی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے زرعی قرضوں کی واپسی میں آسانی پیدا کرنے اور کسانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ٹھوس قانون سازی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔