تربت(این این آئی )ضلع کیچ میں تعلیمی نظام کے جائزے کے لیے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن گروپ کا ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران، مختلف تحصیلوں کے ڈپٹی ڈی ای اوز، ترقیاتی اداروں کے نمائندوں اور سرکل ہیڈز نے شرکت کی۔اجلاس میں ضلع بھر کے تعلیمی نظام، اسکولوں کی صورتحال، داخلہ مہم اور جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع میں کل 718 اسکولز میں سے 116 اسکول عمارتوں سے محروم ہیں جبکہ 85 شلٹر لیس اسکول فعال ہیں۔ ان میں سے 44 اسکولوں کے بینک اکاو¿نٹس کھولے جا چکے ہیں اور 58 میں پی ٹی ایس ایم سی تشکیل دی جا چکی ہے، جبکہ 11 اسکولوں کو فنڈز کے چیکس جاری کیے گئے اور مزید 14 کے چیکس کی منظوری دی جا چکی ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شلٹر لیس اسکولوں کو مکمل فعال بنانے کے لیے مقامی کمیونٹی کو شامل کیا جائے گا اور بچوں کے داخلے کو یقینی بنایا جائے گا۔ بی ایس ڈی پی کے تحت 41 نامکمل اسکولوں کا دورہ کرنے کے بعد پیش رفت نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا گیا، جبکہ دشت کے بعض علاقوں میں فنڈز کے باوجود کام شروع نہ ہونے کی نشاندہی بھی کی گئی۔اجلاس کے دوران ایجوکیشن آفس میں جاری ایک ترقیاتی منصوبے کی سست روی پر بھی اظہار برہمی کیا گیا۔ نصابی کتب کے حوالے سے بتایا گیا کہ ضلع کو 6 لاکھ 50 ہزار کتابیں موصول ہوئی ہیں جبکہ ضرورت 7 لاکھ کتابوں کی ہے۔ تین کلسٹر اسکولوں کی جانب سے کتابیں وصول نہ کرنے پر انہیں شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔داخلہ مہم کے حوالے سے حکام نے بتایا کہ بلوچستان بھر میں ضلع کیچ سرفہرست ہے اور ایک مخصوص ایپ کے ذریعے ریکارڈ محفوظ کیا جا رہا ہے، تاہم ڈپٹی کمشنر نے جعلی داخلوں کے ذریعے تعداد بڑھانے کی شکایات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کراس چیکنگ کو لازمی قرار دیا اور اس سلسلے میں مقامی معتبرین اور کونسلرز سے رابطہ بڑھانے کی ہدایت کی۔اجلاس میں اساتذہ کی کارکردگی اور حاضری کے نظام کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام کے مطابق ضلع میں 4600 اساتذہ اور 2000 نان ٹیچنگ اسٹاف تعینات ہیں، جن کی نگرانی کے لیے روزانہ کی بنیاد پر اسکولوں کے دورے کیے جا رہے ہیں۔ افسران کو ہدایت دی گئی کہ دوروں میں مزید اضافہ کیا جائے اور غیر حاضری کے مسئلے پر قابو پایا جائے۔اجلاس کے اختتام پر یونیسیف کے نمائندے کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے جاری منصوبوں کی تفصیلی رپورٹ مکمل ریکارڈ کے ساتھ جلد از جلد پیش کریں، جبکہ آئندہ ماہ کے لیے جامع منصوبہ بندی پر بھی زور دیا گیا۔
You might also like