کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ایرانی کرنسی کی فروخت اور لین دین کا کاروبار عروج پر پہنچ گیا ہے، جس کے باعث مقامی کرنسی مارکیٹوں میں غیر معمولی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں اور تجارتی مراکز میں ایرانی ریال کی خرید و فروخت کا سلسلہ کھلے عام جاری ہے، جس میں مقامی ڈیلرز کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی بڑی تعداد میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ماہرینِ معاشیات نے اس رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی کرنسی کی اس قدر بڑے پیمانے پر غیر دستاویزی فروخت سے نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ اس سے پاکستانی روپے کی قدر پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سرحدی تجارت اور دیگر عوامل کی وجہ سے ایرانی کرنسی کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، تاہم قانونی ذرائع کے بجائے غیر رسمی طریقوں سے اس کی فروخت نے کئی سوالات جنم دے دیے ہیں۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ حکام کرنسی کی غیر قانونی منتقلی اور فروخت کو روکنے کے لیے مثر اقدامات کریں تاکہ معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
Trending
- وزیراعظم کا وزیراعلیٰ کے پی سے رابطہ، دہشت گردی کیخلاف ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی
- تہران کی پالیسیوں پر بیان بازی آئی اے ای اے کا کام نہیں : اسماعیل بقائی
- یوکرین جنگ اپنے اختتام کے قریب، روس امن معاہدے کے لیے تیار ہے: صدر پوتن
- عوام کے حقوق کیلئے لڑنا پڑا تو لڑیں گے: حافظ نعیم الرحمان
- وزیراعظم سے قطری ہم منصب کا رابطہ، علاقائی امن عمل پر تبادلہ خیال
- شام کے صدر نے اپنے بھائی کو اہم سرکاری عہدے سے ہٹا دیا
- این ڈی ایم اے کا حالیہ موسم گرما گزشتہ سال سے زیادہ شدید ہونے کا انتباہ
- فٹبال ورلڈ کپ کے نئے گانے کے ٹیزر نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا
- دشمن جنگ میں ناکامی کے بعد اب معاشی جنگ چھیڑنا چاہتا ہے، ایرانی صدر
- مزید 4077 پاکستانی عازمین حج سعودی عرب پہنچ گئے، ترجمان وزارت مذہبی امور
You might also like