کوئٹہ ( ایریا رپورٹر) سابق وزیر خزانہ و خوراک انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا ہے کہ نہ ہم دہشتگرد ہے اور نہ تخریب کار ہے ہم باچاخان کے فلسفے عدم تشدد کے پیروکار ہے ، ہمیشہ ہم نے ایک عوامی نمائندے کی حیثیت سے علاقے میں ایک پرفضاءاور پرامن ماحول میں اور قوموں کے درمیان بھائی چارے کی کوشش کی ہے ، اور تشدد ختم کرنے کی کوشش ہے کہ یہاں مختلف اقوام کے قبیلے آباد ہے لیکن اس کے باوجود لوگ ہمیں نہیں چھوڑ رہے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوںنے اپنے جاری کردہ ویڈیو پیغام میں بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوںنے کہاکہ یہ ایک جمہوری عمل ہے الیکشن کرنا ہر ایک کا فرض ہے ہر پارٹی کا فرض ہے کہ پرامن طریقے سے اپنا انتخابی مہم چلائے ہم کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ چاہتے ہیں لیکن جب سے ہمارا انتخابی مہم شروع ہوا ہے یہ چوتھا حملہ ہے جو ہم پر ہورہاہے ہم سے مراد عوامی نیشنل پارٹی پر حملے ہورہے ہیں پہلے ہمارا تحصیل دفتر پر فائرنگ ہوا جس کے ثبو ت ہمارے پاس موجود ہیں دفتر کے تمام شیشے تھوڑے گئے ہیں ہم نے صبر کیا اگلے دن پھر ہمارے پارٹی دفتر جو میزئی اڈے کیساتھ ہے کو آگ لگایا گیا پھر بھی ہم نے صبر کیا پھربھی ہم نے صبر کیا کہ ہم باچاخان کے پیروکار ہے عدم تشدد سے کام لینا چاہئے چار دن کے بعد ہمارے توبہ اچکزئی کے دفتر پر حملہ ہوا وہاں پر ہمارے چیئرمین الیکشن کمیٹی کو زخمی کردیا ہمارے ساتھ فری پلان ایک گیم کھیلا جا رہاہے آج ہمارے پارٹی کے کارکن کمپئین کے دوران فاتحہ پر جا رہے تھے حقیقت بات یہی ہے کہ نہ ہم کسی پر حملہ کرتا ہے نہ کسی سے زیادتی کرے ہمارا جنگ سیاسی ہے اس کمپیئن پر فائرنگ ہوا جو ہمارے جوان بچے کو فائرنگ کرکے زخمی کردیا جبکہ ہمارے دوسرے کارکن ظہور احمد کو شہیدکردیاجس پر ہمارے بہت افسوس ہوا ہے کچھ لوگ ہمارے عدم تشدد کے فلسفہ پر عمل کرنے کو ہماری کمزوری سمجھتے ہیں جو بھی واقعہ میں ملوث ہوں ان کیخلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے ، ہم نے ہزاروں شہدا دیئے ہوئے ہیں اس راستے میں ، شہید زندہ ہوتے ہیں وہ مرتے نہیں ہے ہم نے مختلف ادوار میں الیکشن ہو یا دیگر پارٹی سیاسی سرگرمیوں پر ہم نے 3سے 4شہدا دیئے ہوئے ہیں ہم امن کا پیغام دیتے ہیں لوگ ہمیں تنگ کرتے ہیں زیادتی کرتے ہیں جس بھی پارٹی کا اس میں ہاتھ ہے ان کیخلاف کارروائی ہونا چاہئے شہید کے والد کو ہم کیا جواب دے جو آج ہمارے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ کیوں شہید ہوا اس کو کیوں مارا گیا اس کا گناہ کیا تھا قلعہ عبداللہ کے عوام کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ میں شعور پیدا کرو ،اگر عوامی نیشنل پارٹی جیت رہا ہے تو اسے جیت سے کوئی نہیں روک سکتا ، اگر کوئی اور پارٹی جیت رہاہے تو ہم انہیں مبارک باد دینگے ، لیکن ہمارے ساتھ ظلم ہورہاہے ، ہم 100ڈیڑھ سو شہدا اٹھائے ہیں اس سے بھی ہماری پارٹی نہیں دبی ہے ، اب کیا دب جائے گی ،ہم اس شہدوں پر فخر کرتے ہیں یہ امن کے راستے پر شہید ہوئے ، ہم حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں دھمکیاں ملی ہے کہ آپ توبہ اچکزئی نہیں چاہتے ہیں چار چار دھمکیاں ملی ہے ، ہم حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں جو بھی ملوث ہو اس واقعے میں اسکے کیخلاف کارووئی کی جائے ۔
You might also like