ایران میں کوئی شدت پسند نہیں، سب ایرانی اور انقلابی ہیں، پزشکیان اور قالیباف کا ٹرمپ کے بیان پر رد عمل
ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر مشترکہ ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں نہ کوئی شدت پسند ہے اور نہ اعتدال پسند، بلکہ سب ایرانی اور انقلابی ہیں۔
صدر پزشکیان نے بدنیتی اور ناکہ بندی کو حقیقی مذاکرات میں بڑی رکاوٹ قرار دیا، جبکہ قالیباف کا کہنا تھا کہ امریکی ناکہ بندی کی موجودگی میں جنگ بندی بے معنی ہے۔
دونوں رہنماؤں نے کہا کہ رہبر معظم انقلاب کی قیادت میں ایران جارح قوتوں کو ان کے اقدامات پر پچھتانے پر مجبور کرے گا۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ میدان جنگ اور سفارتکاری ایک مربوط حکمت عملی کا حصہ ہیں، اور ایرانی قوم پہلے سے زیادہ متحد ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کی ناکامی ایران کے ریاستی اداروں کے اتحاد، مشترکہ مقصد اور نظم و ضبط کی عکاسی کرتی ہے۔
ادھر ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی نے دعویٰ کیا کہ ایران کی تیز رفتار کشتیاں اور سمندری ڈرونز امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے تیار ہیں، اور امریکا آبنائے ہرمز تک آنے سے بھی گریز کرتا ہے کیونکہ وہ اپنی جدید بحری طاقت کے انجام سے آگاہ ہے