کوئٹہ: صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں شہری انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں میر سرفراز بگٹی نے کوئلہ پھاٹک تا چمن پھاٹک بلیک ٹاپ روڈ کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ اس موقع پر سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان نے منصوبے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ اس اہم شاہراہ کی لمبائی 1.02 کلومیٹر ہے جسے محض 76 دنوں کی قلیل مدت میں مکمل کیا گیا۔ منصوبے کی مجموعی لاگت 33 کروڑ 83 لاکھ 60 ہزار روپے مقرر کی گئی تھی، تاہم مثر منصوبہ بندی اور وسائل کے دانشمندانہ استعمال کے باعث اسے 30 کروڑ 86 لاکھ 30 ہزار روپے میں مکمل کر لیا گیا، یوں اس منصوبے میں 2 کروڑ 97 لاکھ 30 ہزار روپے کی نمایاں بچت بھی حاصل کی گئی سیکرٹری مواصلات و تعمیرات بابر خان کے مطابق یہ منصوبہ شہر کے اہم رہائشی اور تجارتی علاقوں کو آپس میں جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ خصوصا ایئرپورٹ روڈ، شہباز ٹان، ماڈل ٹان اور دیگر ملحقہ علاقوں کے ہزاروں شہری اس سڑک سے براہ راست مستفید ہوں گے، جس سے نہ صرف آمدورفت میں آسانی پیدا ہوگی بلکہ ٹریفک کے دبا میں بھی واضح کمی آئے گی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ محض 76 دنوں میں اس اہم شاہراہ کی تکمیل حکومت بلوچستان کی مثر حکمت عملی، بہتر نگرانی اور تیز رفتار عملدرآمد کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور عوامی وسائل کو امانت سمجھ کر استعمال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے منصوبے میں ہونے والی لاگت کی بچت کو شفاف طرز حکمرانی اور مالی نظم و ضبط کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کم وسائل میں زیادہ سے زیادہ عوامی سہولیات فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ وزیراعلی کا کہنا تھا کہ سڑک کی تعمیر سے شہر میں ٹریفک کے بہا میں بہتری آئے گی، سفری وقت کم ہوگا اور شہریوں کو بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی اس موقع پر وزیراعلی نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کوئلہ پھاٹک تا چمن پھاٹک سڑک کو مستقبل میں ڈبل روڈ میں تبدیل کیا جائے گا تاکہ بڑھتے ہوئے ٹریفک کے دبا کو مزید مثر انداز میں کم کیا جا سکے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس منصوبے کی جلد از جلد منصوبہ بندی مکمل کی جائے تاکہ شہریوں کو مزید سہولت فراہم کی جا سکےبلوچستان حکومت صوبے بھر میں سڑکوں کے جال کو بہتر بنانے، جدید انفراسٹرکچر کی فراہمی اور شہری سہولیات میں اضافے کے لیے متعدد ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسے منصوبے اسی رفتار اور شفافیت کے ساتھ مکمل ہوتے رہے تو نہ صرف شہری زندگی میں بہتری آئے گی بلکہ صوبے کی مجموعی معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔
You might also like