کوئٹہ 21اپریل ۔ بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی غیر رجسٹرڈ اور ناقص بوتل بند پانی کی فراہمی کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران غیر قانونی طور پر کام کرنے والے مزید 10 واٹر پلانٹس سربمہر کر دئیے گئے۔ترجمان بی ایف اے کے مطابق خصوصی مہم کے تحت فوڈ سیفٹی ٹیموں کی جانب سے سریاب ، ایسٹرن بائی پاس، جتک اسٹاپ، سرکی روڈ، پٹیل روڈ، شاوکشاہ روڈ، ہزارہ ٹاو¿ن، عیسیٰ نگری، کلی شابو اور چشمہ اچوزئی سمیت مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران 10 واٹر پلانٹس سیل کیے گئے جبکہ بوتل بندپانی کے متعدد نمونے لیبارٹری تجزیے کیلئے حاصل کیے گئے۔ دوران انسپیکشن ایک مقام سے 100 کارٹن غیر معیاری بوتل بند پانی بھی ضبط کیا گیاجبکہ یونٹس میں پروڈکٹ رجسٹریشن اور بی ایف اے لائسنس کی عدم موجودگی، ناقص صفائی، جعلی لیبلنگ، ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کا فقدان، سی آئی پی اور سی سی پیز کی عدم دستیابی، ورکرز کیلئے پی پی ای اور میڈیکل ریکارڈ نہ ہونے سمیت متعدد سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔ بعض مقامات پر اوپن واش روم اور کیڑوں کی روک تھام کے ناقص انتظامات بھی پائے گئے۔ ڈائریکٹر جنرل بلوچستان فوڈ اتھارٹی حبیب اللہ خان کا مہمںسے متعلق کہنا ہے کہ اتھارٹی کے تمام تر اقدامات کا مقصد خوراک کے مراکز و کارخانوں کی اصلاح ہے ، بوتل بند پانی یا منرل واٹر سمیت تمام اشیائ خوردونوش کی تیاری اور فروخت کیلئے بلوچستان فوڈ اتھارٹی سے پروڈکٹ رجسٹریشن اور لائسنس کا حصول قانون کے مطابق لازمی ہے جو نہ صرف قانونی تقاضا ہے بلکہ عوام کو محفوظ و معیاری خوراک کی فراہمی کو بھی یقینی بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واٹر پلانٹس کے مالکان اور دیگر تمام فوڈ بزنس آپریٹرز ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بی ایف اے ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کریں تاکہ وہ کاروبار شفاف اور قانون کے دائرے میں رہ کر جاری رکھ سکیں۔
You might also like