نوجوانوں کی ناراضگی حکومت سے ہو سکتی ہے لیکن ریاست سے نہیں ہونی چاہیے‘ وزیراعلیٰ بلوچستان – Daily Mashriq Newspaper Quetta
Mashriq Newspaper

نوجوانوں کی ناراضگی حکومت سے ہو سکتی ہے لیکن ریاست سے نہیں ہونی چاہیے‘ وزیراعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ: وزےراعلیٰ بلوچستان مےر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی ناراضگی حکومت سے ہو سکتی ہے لیکن ریاست سے نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ کچھ عناصر نوجوانوں کو منظم انداز میں ریاست سے دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ دن دور نہیں جب بلوچستان ہر شعبے میں دیگر صوبوں سے آگے نکل جائے گا اگر آج بلوچستان تعلیمی میدان میں پیچھے ہے تو اس کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے ہمیں ماضی میں جان بوجھ کر تعلیم سے دور رکھا گیا، لیکن اب ہمیں خود اپنی تقدیر بدلنی ہوگی وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کی کامیابی کا واحد راستہ تعلیم ہے اور حکومت اس سلسلے میں ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اساتذہ کی بھرتیوں میں مکمل طور پر میرٹ کو یقینی بنایا گیا اور بعض خواتین نے ملازمت کے حصول کے لیے اپنی ذاتی قیمتی اشیاءتک فروخت کیں، جو ان کے عزم کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اساتذہ کی تربیت پر خطیر رقم خرچ کی گئی تاکہ طلباءکو معیاری تعلیم فراہم کی جا سکے‘ان خےالات کا اظہار انہوں نے وزےر اعلیٰ سےکرٹرےٹ مےں سکول داخلہ مہم 2026 کے دوران نماےاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افسران اور متعلق عملے کے اعزاز مےں منعقدہ تقرےب سے خطاب کرتے ہوئے کےا‘ تقریب مےں وزیراعلیٰ بلوچستان نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے افسران میں اسناد تقسیم کیں تقریب میں چیف سیکرٹری بلوچستان، صوبائی وزراء، مختلف محکموں کے سیکرٹریز، ڈپٹی کمشنرز، تعلیمی افسران اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی‘ اس موقع پر تعلیم کے شعبے میں حکومتی اقدامات اور سکول داخلہ مہم کی کامیابیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔تقرےب سے صوبائی وزےر تعلےم راحےلہ حمےد خان درانی‘ سیکرٹری تعلیم بلوچستان لال جان جعفر نے بھی خطاب کےا ‘ وزےراعلیٰ بلوچستان مےر سرفراز بگٹی نے اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت بلوچستان تعلیم کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کرے گی تاکہ صوبے کے ہر بچے کو تعلیم کا حق حاصل ہو سکے انہوں نے کہاکہ وہ بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون پر مشکور ہیں جن کی مدد سے تعلیمی شعبے میں نمایاں پیش رفت ممکن ہوئی یہ ان کی زندگی کے اہم ترین لمحات میں سے ایک ہے کہ وہ تعلیم کے فروغ کے لیے کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے والد نے لڑکیوں کے لیے ایک اسکول قائم کیا تھا جہاں ابتدائی چھ ماہ تک صرف وہ خود اور ان کی بہن زیر تعلیم تھے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تعلیم کے فروغ کے لیے کس قدر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا‘انہوں نے کہا کہ اگر آج بلوچستان تعلیمی میدان میں پیچھے ہے تو اس کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے ہمیں ماضی میں جان بوجھ کر تعلیم سے دور رکھا گیا، لیکن اب ہمیں خود اپنی تقدیر بدلنی ہوگی وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کی کامیابی کا واحد راستہ تعلیم ہے اور حکومت اس سلسلے میں ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے‘انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی بھرتیوں میں مکمل طور پر میرٹ کو یقینی بنایا گیا اور بعض خواتین نے ملازمت کے حصول کے لیے اپنی ذاتی قیمتی اشیاءتک فروخت کیں، جو ان کے عزم کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اساتذہ کی تربیت پر خطیر رقم خرچ کی گئی تاکہ طلباءکو معیاری تعلیم فراہم کی جا سکے‘وزیراعلیٰ نے نوجوانوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ناراضگی حکومت سے ہو سکتی ہے لیکن ریاست سے نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ کچھ عناصر نوجوانوں کو منظم انداز میں ریاست سے دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ وہ دن دور نہیں جب بلوچستان ہر شعبے میں دیگر صوبوں سے آگے نکل جائے گا۔ انہوں نے سوشل میڈیا صارفین اور انفلوئنسرز پر بھی زور دیا کہ وہ معاشرے کی اصلاح میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔تقرےب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ بلوچستان تعلیمی میدان میں درست سمت کی جانب گامزن ہے حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو سکولوں میں داخل کیا جائے اور اس سلسلے میں خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے ‘انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں سہولیات کا فقدان ایک چیلنج ہے، تاہم والدین کا سرکاری اسکولوں پر بڑھتا ہوا اعتماد ایک مثبت اشارہ ہے‘ اب تک 2 لاکھ 80 ہزار سے زائد بچوں کو سکولوں میں داخل کیا جا چکا ہے جبکہ حکومت نے محکمہ تعلیم کے لیے بجٹ میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔سیکرٹری تعلیم لال جان جعفر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں تقریباً 2.9 ملین بچے سکولوں سے باہر تھے جبکہ ہزاروں تعلیمی ادارے غیر فعال تھے حکومتی تعاون کے بغیر اس بڑے چیلنج سے نمٹنا ممکن نہیں تھا‘انہوں نے مزید بتایا کہ 13 ہزار 600 اساتذہ بھرتی کیے گئے جبکہ 22 ہزار سے زائد اساتذہ کو تربیت فراہم کی گئی‘ سکولوں میں بچوں کے لیے فوڈ پروگرام کا آغاز کیا گیا، 15 موبائل لائبریریاں (کتاب گاڑیاں) اور 55 تربیتی مراکز قائم کیے گئے جبکہ تعلیمی اداروں کو 184 بسیں فراہم کی گئیں‘ برےفنگ دےتے ہوئے کہاکہ سکول داخلہ مہم کے تحت اب تک 2 لاکھ 79 ہزار بچوں کو سکولوں میں داخل کیا گیا جبکہ گزشتہ دو سالوں میں مجموعی طور پر 7 لاکھ بچوں کو تعلیمی اداروں کا حصہ بنایا گیا۔ ڈراپ آو¿ٹ کی شرح میں 45 فیصد کمی آئی ہے اور شرح خواندگی 49 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ مزید برآں، صوبے بھر میں ڈور ٹو ڈور مہم چلائی گئی اور اس سال قومی نصاب بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.