- ڈیوٹی مجسٹریٹ جنوبی پولیس نے ملزمان کو عدالت میں پیش کردیا، ملزمہ نے پیشی کے دوران چیخ و پکار کی، جھوٹے مقدمات کا الزام لگایا، عدالت نے ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
ملزمہ انمول عرف پنکی کو چہرہ ڈھانپ کر سخت سکیورٹی میں سٹی کورٹ کراچی لایا گیا اور پھر انہیں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
پنکی نے عدالت پیشی کے دوران شور شرابہ کیا اور کہا کہ مجھے 22 دن سے اٹھایا ہوا ہے، مجھے لاہور سے گرفتار کرکے وین میں لایا گیا، میرے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے ہیں اور مجھ پر تشدد بھی کیا گیا۔
اس موقع پر عدالت نے ملزمہ کو یقین دہانی کرائی کہ عدالت میں آپ کو کوئی ہراساں نہیں کر سکتا، آپ کا اور آپ کے وکیل کا مکمل مؤقف سنا جائے گا، پنکی نے عدالت کو بتایا کہ میرے خلاف 20 سے 25 پرچے ڈالے جا رہے ہیں، کہا جا رہا ہے کہ سب کچھ قبول کریں ورنہ آپ کی فیملی کو اٹھا کر لے جائیں گے، زبردستی لوگوں کے نام کہلوائے جا رہے ہیں۔
عدالت میں بیان دیتے ہوئے پنکی نے بتایا کہ مجھ سے کہا جارہا ہے کہ جو ہم نام بتارہے ہیں، ان سب کا نام لو، عدالت نے کہا کہ آپ کا اقبالی بیان نہیں ہو رہا ہے ابھی، عدالت نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ پرانا آرڈر کہاں ہے، ملزمہ سے پوچھا کہ آپ کی طبیعت ٹھیک ہے؟
سماعت کے دوران عدالت نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ 3 دن ریمانڈ ملا تھا، کیس میں کیا پیشرفت ہے، جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ 7 لوگ گرفتار کیے ہیں، ملزمہ کی نشاندہی پر ریکوری ہو رہی ہے تاہم ملزمہ ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔
عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسارکیا کہ ملزمہ کا پہلا آرڈر کہاں ہے ؟ تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ پہلا آرڈر پولیس موبائل میں موجود ہے، اس پر عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ یہ انویسٹی گیشن ہے آپ کی۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ 3 کیسز ہیں، معزز عدالت کو صحیح طرح سمجھا نہیں سکا، ملزمہ آج تک نہیں پکڑی گئی تھی، بہت عرصے سے کام کر رہی ہے، یونیورسٹیوں میں نسلیں تباہ کردی گئی ہیں، 800 افراد کے نمبر ملے ہیں جن کو منشیات سپلائی کر رہی تھی، ملزمہ کے گینگ میں غیرملکی بھی شامل ہیں۔
تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزمہ بہت ہی شاطر ہے، بار بار بیان بدل رہی ہے، ملزمہ نے ابھی آتے ہوئے کہا کہ مجھے جانتے نہیں ہو، میرا نام پنکی ہے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزمہ پنکی کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
پنکی کی ایک اور مقدمے میں پیشی، میڈیا سے بات کرنے کی درخواست مسترد
پولیس نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو ڈسٹرکٹ وسطی میں درج ایک اور مقدمے میں عدالت میں پیش کیا، تفتیشی افسر کی عدالت سے ملزمہ کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی درخواست پر عدالت نے سوال کیا کہ کس کا ریمانڈ چاہیے؟ کیا پہلے دس کیسز میں ریمانڈ حاصل کیا جا چکا ہے؟
خاتون پولیس اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ کا دوسری عدالت سے دو روز کا جسمانی ہوچکا ہے، میں ایس آئی یو میں درج مقدمے میں تفتیشی افسر ہوں ، وکیل ملزمہ کا کہنا تھا کہ جس کیس میں پنکی کو گرفتار کیا گیا اسی کیس میں پہلے سے گرفتار ملزم بری چکا ہے۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ کی ٹرانزیکشن ریکور کرلی گئی ہیں، 3 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشن ہوچکی ہے، اسکا چھوٹا بھائی لاہور میں منیشیات سپلائی کا کام کرتا ہے۔
ملزمہ پنکی نے عدالت کو بتایا کہ میرے گھر سے منیشات برآمدگی کی، وہ گھر 25 سال سے بند تھا، مجھے ڈرایا گیا ہے پوری فیملی کو بند کرنے کی دھمکی دی گئی، کیا میں مسکراتے ہوئے خوش آمدید کہوں گی یا چھاپے پر پریشان ہوں گی، میرے دھول سے اٹے گھر سے منشیات کی چمکتی تھیلیاں نکلی ہیں، جس پر تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ان کے 800 سے زائد منشیات کے کیسز ہیں ،ان کا منشیات کے مقدمات کا فیملی بیک گراؤنڈ ہے۔
وکیل ملزمہ نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ کو دفعہ 512 میں مفرور قرار دیا گیا تھا، مفرور ملزم کا گرفتاری کے بعد جسمانی ریمانڈ نہیں ہوتا، لاہور سے گرفتار کر کے لائے ہیں ، قتل کے مقدمے میں جوڈیشل ریمانڈ ہوا تھا، نظر ثانی کی درخواست پر تین روز کا ریمانڈ ہوا تھا، پنکی کے جوتے گر گئے ہیں ، جوتے دلوائے جائیں، پاوں جل رہے ہیں، جس پر پولیس اہلکار نے کہا کہ دھکوں میں ہمارے جوتے بھی گر چکے ہیں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا اب یہ کسی ریمانڈ پر ہیں؟ اگر مرکزی مقدمے میں ریمانڈ ہوا ہے تو مجھے اس عدالت کا فیصلہ لاکر دیں، میں خصوصی ڈیوٹی پر مجسٹریٹ ہوں، میرے پاس کیس کا ریکارڈ نہیں، وکیل کا اس موقع پر کہنا تھا کہ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ اس کیس میں جسمانی ریمانڈ ہوا تو آپ بھی ریمانڈ دیں گے؟ وکیل ملزمہ کا کہنا تھا کہ میری موکلہ کے ساتھ بدتمیزی کی جا رہی ہے۔
انمول پنکی نے عدالت کو بتایا کہ میں میڈیا سے بات کرنا چاہتی ہوں ، عدالت نے کہا کہ آپ کو میڈیا سے بات کرنے نہیں دے سکتے۔
ملیر کورٹ کا جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے کا حکم
ملزمہ کو ملیر کورٹ بھی پیش کیا گیا، سچل تھانے کے کیس میں عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو جوډیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا، عدالت نے تفتیشی افسر نے 14 روز میں چالان طلب کرلیا۔
پراسیکویشن نے جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان کیا، قائم مقام پراسیکیوٹر منتظر مہدی نے کہا کہ ملیر عدالت کے فیصلے کے خلاف کرمنل رویژن فائل کریں گے۔
اس کے علاوہ کراچی سٹی کورٹ میں بجلی کا بریک ڈاؤن ہو گیا، کمرہ عدالت اور ججز کے چیمبرز میں اندھیرا چھا گیا، انمول پنکی کے کیسز میں ریمانڈ کی درخواستوں پر فیصلہ جاری ہونے میں تاخیر ہو گئی۔
سٹی کورٹ میں بجلی کی عدم موجودگی کے باعث کمپیوٹر اور پرنٹرز بند ہیں۔