گوادر: بیچ چم مچھلی کے تحفظ کے لیے 25نمبر سے بڑے جال پر پابندی، اہم فیصلے

گوادر : وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ویژن کے مطابق قدرتی وسائل کے تحفظ، پائیدار ترقی، ماحول دوست پالیسیوں اور گڈ گورننس کے فروغ کے لیے ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ کی زیر صدارت مختلف ماہی گیر گروپوں، محکمہ فشریز، متعلقہ اداروں اور فش فیکٹری، مالکان کا ایک اہم عوامی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں بیچ چم مچھلی کی شیکار پر پابندی اور سمندری وسائل کے تحفظ، غیر قانونی ماہی گیری کی روک تھام اور ماہی گیروں کے مفادات کے تحفظ سے متعلق اہم اور متفقہ فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) ظہور بلوچ، ڈائریکٹر فشریز احمد ندیم، ایس پی گوادر واحد بلوچ، چیئرمین میونسپل کمیٹی گوادر ماجد جوہر، فش فیکٹری مالکان، سربندن، پشکان اور گوادر سے تعلق رکھنے والے ماہی گیر برادری کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تفصیلی مشاورت کے بعد تمام فریقین کے اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ 15 جولائی سے 15 اگست تک صرف 25 نمبر جال کے استعمال کی اجازت ہوگی، جبکہ اس سے بڑے سائز کے جال کے استعمال پر مکمل پابندی عائد رہے گی۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ غیر قانونی جالوں کے استعمال سے سمندری حیات، خصوصاً کم عمر مچھلی (بیچ چم مچھلی) کے ذخائر کو شدید نقصان پہنچتا ہے، جس کے باعث مستقبل میں ماہی گیری کا شعبہ متاثر ہو سکتا ہے۔ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ قانون پر بلاامتیاز عملدرآمد کو یقینی بنائے گی۔ مقررہ سائز سے بڑے جال استعمال کرنے والے ناخدا¶ں، فش فیکٹریوں اور دکانوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ خلاف ورزی کی صورت میں غیر قانونی شکار ضبط کیا جائے گا، متعلقہ فیکٹری یا دکان کو سیل کیا جائے گا اور ذمہ دار افراد پر بھاری جرمانے بھی عائد کیے جائیں گے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کا مقصد کسی کے روزگار کو متاثر کرنا نہیں بلکہ سمندری وسائل کا تحفظ، ماہی گیری کے شعبے کو دیرپا بنیادوں پر مستحکم کرنا اور آنے والی نسلوں کے لیے مچھلی کے قدرتی ذخائر کو محفوظ بنانا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام فیصلے قانون، مشاورت اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔اجلاس کے شرکائ، فش فیکٹری مالکان اور ماہی گیر نمائندوں نے ضلعی انتظامیہ کے متوازن، دانشمندانہ اور مشاورتی کردار کو سراہتے ہوئے فیصلوں پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی قیادت میں کیے گئے اقدامات کو سمندری وسائل کے تحفظ، ماہی گیروں کے مفادات کے تحفظ اور ماہی گیری کے نظام کو بہتر بنانے کی جانب ایک مثبت اور بروقت اقدام قرار دیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. AcceptRead More

https://www.googletagmanager.com/gtag/js?id=G-HFZSG9BN9P