کوئٹہ : صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ڈیری فارمز اور ملک شاپ مالکان نے دودھ اور دہی کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کر دیا ہے، جس نے پہلے سے مہنگائی کے ستائے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ تازہ ترین اضافے کے بعد دودھ کی فی کلو قیمت میں 20 روپے، جبکہ دہی کی قیمت میں 40 روپے تک کا بھاری اضافہ کیا گیا ہے، جس سے دہی کی قیمت 260 روپے فی کلو کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ڈیری فارم مالکان نے اس اضافے کا دفاع کرتے ہوئے مقف اختیار کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ مویشیوں کا چارہ، گھاس اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافے نے پیداواری لاگت کو بڑھا دیا ہے، جس کے باعث قیمتیں بڑھانا ان کی مجبوری بن گیا ہے۔دوسری جانب شہریوں نے اس اضافے کو مسترد کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوال اٹھا دیے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ دکاندار سرکاری نرخنامے کو ہوا میں اڑا کر اپنی مرضی کی قیمتیں وصول کر رہے ہیں، جبکہ انتظامیہ خوابِ خرگوش کے مزے لے رہی ہے۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ قیمتوں کو فوری طور پر کنٹرول کیا جائے اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بنیادی غذائی اشیا کی قیمتیں اسی طرح بڑھتی رہیں تو شہر میں غذائی قلت اور غذائیت کی کمی جیسے سنگین مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
You might also like