کوئٹہ: بلوچستان ہیلتھ کیئر کمیشن کی معائنہ ٹیم نے صوبائی دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں عطائی ڈاکٹروں کے خلاف بھرپور کارروائی کرتے ہوئے متعدد صحت مراکز کا دورہ کیا۔ کارروائیاں خاص طور پر غوث آباد اور سیٹلائٹ ٹاون کے علاقوں میں کی گئیں، جہاں غیر قانونی طبی سرگرمیوں کی شکایات موصول ہو رہی تھیں۔تفصیلات کے مطابق معائنہ ٹیم نے ایک ایسے مرکز پر کارروائی کی جہاں ایکسرے یونٹ کے ساتھ ایک آرتھوپیڈک کوئیک پریکٹیشنر غیر قانونی طور پر خدمات انجام دے رہا تھا۔ ٹیم نے موقع پر کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ مرکز کو سیل کر دیا اور ذمہ دار فرد پر جرمانہ بھی عائد کیا۔ حکام کے مطابق یہ اقدام عوام کی صحت کو لاحق خطرات کے پیش نظر اٹھایا گیا اسی طرح ایک دانتوں کے کلینک میں بھی ایک عطائی ڈاکٹر کی نشاندہی ہوئی، جو بغیر مستند اہلیت کے مریضوں کا علاج کر رہا تھا۔ معائنہ ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کلینک کو سیل کر دیا اور مالک پر جرمانہ عائد کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے عناصر عوام کی جانوں سے کھیل رہے ہیں اور ان کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے مزید کارروائیوں کے دوران دو پولی کلینکس پر بھی قوانین کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر جرمانے عائد کیے گئے، جبکہ تین جنرل پریکٹیشنر کلینکس کو وارننگ نوٹس جاری کیے گئے۔ ان کلینکس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مقررہ قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل کریں بصورت دیگر ان کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اس موقع پر کمیشن کے فوکل پرسن ڈاکٹر بسم اللہ خان کاکڑ نے کہا کہ ادارہ عوام کو معیاری اور محفوظ طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عطائی ڈاکٹروں کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور کسی بھی غیر قانونی طبی عمل کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ مستند اور رجسٹرڈ طبی مراکز سے ہی علاج کروائیں اور کسی بھی مشکوک کلینک یا غیر قانونی طبی سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں، تاکہ بروقت کارروائی کر کے انسانی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
You might also like