کوئٹہ( یو این اے)بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے دوران اس وقت کشیدہ صورتحال پیدا ہو گئی جب اسپیکر عبدالخالق اچکزئی نے اپوزیشن رکن مولانا ہدایت الرحمن کو ایوان سے باہر نکالنے کی ہدایت جاری کر دی۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اجلاس کے دوران کسی معاملے پر گرما گرم بحث چھڑ گئی اور ایوان کا ماحول تلخ ہو گیا یو این اے کے مطابق مولانا ہدایت الرحمن نے کسی اہم عوامی مسئلے پر اظہار خیال کے دوران سخت مقف اختیار کیا، جس پر حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ اسپیکر نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے بارہا اراکین کو تحمل اور ضابطے کی پاسداری کی تلقین کی، تاہم ہنگامہ آرائی میں اضافہ ہونے پر انہوں نے مولانا ہدایت الرحمن کو ایوان سے باہر جانے کا حکم دے دیا۔اس موقع پر اپوزیشن اراکین نے اسپیکر کے فیصلے پر احتجاج کیا اور اسے غیر مناسب قرار دیا، جبکہ ایوان میں شور شرابا بڑھ گیا۔ صورتحال اس قدر کشیدہ ہو گئی کہ کچھ دیر کے لیے کارروائی متاثر بھی ہوئی۔بعد ازاں وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے مداخلت کرتے ہوئے معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے اسپیکر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ بڑے پن کا مظاہرہ کریں اور ایوان کو چلانے کے لیے مفاہمت کا راستہ اختیار کیا جائے وزیراعلی کی مداخلت کے بعد اسپیکر عبدالخالق اچکزئی نے اپنی رولنگ پر نظر ثانی کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمن کو دوبارہ ایوان میں آنے کی اجازت دے دی۔ اسپیکر نے ہدایت دی کہ ایوان کے تمام اراکین پارلیمانی روایات اور ضابطہ اخلاق کی پابندی کریں تاکہ کارروائی خوش اسلوبی سے جاری رہ سکے بعد ازاں مولانا ہدایت الرحمن ایوان میں واپس آئے اور اجلاس کی کارروائی دوبارہ معمول کے مطابق جاری رہی۔ اس واقعے نے ایک بار پھر بلوچستان اسمبلی میں سیاسی کشیدگی اور پارلیمانی نظم و ضبط کے حوالے سے سوالات کو جنم دیا ہے، تاہم وزیراعلی کی بروقت مداخلت سے صورتحال مزید خراب ہونے سے بچا لیا ۔
You might also like