بلوچستان کے کینالز میں پانی کی شدید قلت، زرعی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ

نصیرآباد( آئی این پی ) سپرنٹنڈنٹ انجینئر ایریگیشن سرکل نصیرآباد ڈویژن، مدثر ظفر کھوسہ نے کہا ہے کہ خریف سیزن کے آغاز سے ہی بلوچستان کی پٹ فیڈر، کیرتھر، اوچ اور مانجھوٹی کینالز میں پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے، حالانکہ ارسا بلوچستان کے لیے مکمل پانی جاری کر رہا ہے، تاہم سندھ ایریگیشن حکام ارسا کی منظور شدہ تقسیم کے مطابق بلوچستان کے حصے کا پانی فراہم نہیں کر رہے، جس کے باعث صوبے کے واحد گرین بیلٹ میں زرعی سرگرمیاں شدید متاثر، بے روزگاری اور غربت میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جبکہ صوبہ اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے دیگر صوبوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اور متعلقہ حکام کو متعدد بار تحریری و زبانی طور پر آگاہ کیا جا چکا ہے اور تمام متعلقہ فورمز پر بار بار معاملہ اٹھایا گیا، مگر صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی اور نہروں میں پانی کی فراہمی مسلسل کم ہو رہی ہے، جس سے خریف کی کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ مدثر ظفر کھوسہ نے خبردار کیا کہ اگر بوائی کے اہم مرحلے پر کاشتکاروں کو ان کے حصے کا پانی فراہم نہ کیا گیا تو کاشتکاری کا نظام بری طرح متاثر ہوگا، معاشی مشکلات میں اضافہ ہوگا اور کمانڈ ایریاز میں امن و امان کی صورتحال بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ناصرف سندھ کی جانب سے بلوچستان کے جائز حصے کا پانی روک رہا ہے بلکہ ارسا کے قوانین کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی کررہا ہے جوکہ نامناسب رویہ ہے ملک بھر کے آبی ذخائر میں سے بلوچستان کا حصہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے مگر پھر بھی ہمیں اپنے حصے کا پانی فراہم نہیں کیا جا رہا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان کے کاشتکاروں کے ساتھ ہونے والا یہ استحصالی رویہ فوری طور پر بند کیا جائے اور صوبے کو اس کے آئینی و قانونی حق کے مطابق پانی کی مکمل فراہمی یقینی بنائی جائے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. AcceptRead More

https://www.googletagmanager.com/gtag/js?id=G-HFZSG9BN9P