اسلام آباد،کوئٹہ : وفاقی وزارتِ داخلہ و انسدادِ منشیات نے ملک بھر میں بغیر کارآمد ویزا مقیم افغان شہریوں کے خلاف کارروائی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے تمام صوبائی حکومتوں، بشمول حکومت بلوچستان، کو خصوصی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے باضابطہ مراسلے کے مطابق 10 جولائی 2026 سے ایسے تمام افغان شہری جو قانونی ویزا کے بغیر پاکستان میں مقیم پائے جائیں گے، انہیں فوری طور پر گرفتار کیا جائے گا اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ وفاقی وزارتِ داخلہ کی جانب سے چیف سیکریٹری بلوچستان، محکمہ داخلہ بلوچستان، ضلعی انتظامیہ، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے تمام اضلاع میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف مربوط اور مثر کریک ڈان کیا جائے۔سرکاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ یکم جون 2026 کو سیکریٹری وزارتِ داخلہ کی زیر صدارت ہونے والے جائزہ اجلاس میں “غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے منصوبے” (IFRP) پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تھا، جس میں تمام صوبوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ افغان شہریوں، بالخصوص زائد المیعاد ویزا رکھنے والوں، کی وطن واپسی اور بے دخلی کے عمل کو مزید تیز کیا جائے اور اس منصوبے پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ کوئٹہ اور بلوچستان بھر میں 10 جولائی 2026 کے بعد اگر کوئی افغان شہری بغیر کارآمد ویزا پاکستان میں رہائش پذیر پایا گیا تو اسے موقع پر گرفتار کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، پولیس، لیویز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کو خصوصی ہدایات جاری کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے تاکہ صوبے بھر میں یکساں اور مثر انداز میں کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں خصوصی کریک ڈان کے دوران کوئٹہ، چمن، قلعہ عبداللہ، پشین، ژوب، نوشکی، چاغی، قلعہ سیف اللہ، لورالائی، مستونگ، خضدار، گوادر، تربت اور دیگر اضلاع میں بھی غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کی نشاندہی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔ سرکاری مراسلے کے مطابق 11 جولائی سے تمام اضلاع روزانہ کی بنیاد پر وزارتِ داخلہ کو رپورٹ ارسال کریں گے، جس میں بغیر کارآمد ویزا پائے جانے والے افغان شہریوں کی تعداد، ان کے خلاف کی گئی کارروائی، گرفتاریوں کی تفصیلات اور ان کی موجودہ قانونی حیثیت درج ہوگی۔ ان رپورٹس کی نگرانی اور رابطہ کاری کے لیے وزارتِ داخلہ نے مسٹر عثمان حفیظ چیمہ کو فوکل پرسن مقرر کیا ہے۔ مراسلے کے مطابق متعلقہ اداروں کے درمیان رابطوں کو مزید مثر بنانے کے لیے شناختی دستاویزات اور بائیو میٹرک تصدیق کے عمل کو بھی تیز کیا جا رہا ہے تاکہ گرفتار افراد کی شہریت اور قانونی حیثیت کی فوری جانچ ممکن ہو سکے۔تاہم یہ واضح رہے کہ نادرا کی خصوصی ٹیموں کی تشکیل، موقع پر بائیو میٹرک تصدیق اور دستاویزات نہ ہونے کی صورت میں فوری بارڈر منتقلی سے متعلق جو معلومات زیر گردش ہیں، وہ فراہم کردہ متن کا حصہ ہیں۔ ان اضافی اقدامات کی باضابطہ سرکاری تصدیق اس مراسلے کے متن میں موجود نہیں، اس لیے انہیں سرکاری طور پر تصدیق شدہ اقدامات قرار نہیں دیا جا سکتا۔ وزارتِ داخلہ نے اپنے مراسلے میں تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ اس معاملے کو اعلی ترین ترجیح دی جائے اور غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے منصوبے پر مکمل طور پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ ملک میں امیگریشن قوانین پر مثر عمل اور غیر قانونی قیام کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
You might also like
