صارفین پرفی یونٹ کیپسٹی پیمنٹس، پیداواری لاگت، سیلز ٹیکس کی تفصیلات سامنے آگئیں۔ دستاویز کے مطابق کیپسٹی پیمنٹس کا بوجھ پیداواری لاگت سے بڑھ گیا۔ گزشتہ مالی سال بجلی صارفین نے پاورپلانٹس کو کیپسٹی پیمنٹس مد میں 1665 ارب روپے ادا کیے۔
دستاویز کے مطابق بجلی صارفین نے جنرل سیلز ٹیکس کی مد میں 205 ارب روپے ادا کیے، صارفین نے مجموعی طور2935 ارب ادا کیے،پیداواری لاگت 1167ارب روپے رہی۔
سب سے زیادہ ادائیگیاں درآمدی کوئلے کے پاور پلانٹس کو635 ارب ادا کیے گئے، درآمدی آرایل این جی کے پاور پلانٹس کو527 ارب روپے کی ادائیگی ہوئی۔ تھرکول پاور پلانٹس کو463 ارب، نیوکلیئر پاور پلانٹس کو 469 ارب دیےگئے۔
کیپسٹی پیمنٹ کیا ہوتی ہے؟
ملک میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب اور لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کیلیے مختلف حکومتوں نے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے کیے، ان پرائیویٹ کمپنیوں کو بجلی پیدا کرنے یا نہ کرنے کے باوجود بھی ماہانہ اربوں روپے کی ادائیگی کی جاتی ہے، جسے کیپیسٹی پیمنٹ کہا جاتا ہے۔
بجلی کے بل میں کپیسٹی پیمنٹ مقرر ہے، بجلی کی فروخت میں کمی کی وجہ سے پاور پلانٹس بند بھی کردیے جاتے ہیں لیکن اس کی وصولی بھی بجلی کے بل سے ہوتی رہتی ہے۔ لوگوں کی سولر سسٹم پر منتقلی کی وجہ سے نیشنل گرڈ اسٹیشن وہ وصولی باقی لوگوں کے بجلی کے بلوں سے وصول کرتے ہیں۔ بہت سے ایسے پلانٹ ہیں جن کو باقاعدگی سے کیپیسٹی پیمنٹ ہورہی ہے لیکن وہ بجلی نہیں بنا رہے۔