حکمران اتحاد کی دونوں بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے درمیان معاملات تاحال طے نہ پاسکے اور قانون سازی بھی روک دی گئی ہے۔ جنوبیایشیائی تارکینِ وطن کی کمیونٹیز دریافت کرنا
پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان معاملات کے حل کے لیے بیک ڈور کوششیں جاری ہیں اور دونوں جماعتوں نے پس پردہ رابطوں کے ذریعے کوئی قانون سازی نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کے درمیان معاملات طے پانے کی وجہ سے حکومت کا قومی اسمبلی اجلاس کے دوران قانون سازی کا عمل رک گیا ہے۔
قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور سید نوید قمر نے مجھے کہا ہے کہ فی الحال قانون سازی کے بلز منظوری کے لیے پیش نہ کیے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی قواعد میں ڈاکٹر نفیسہ شاہ کی ترامیم کی منظوری کے علاوہ باقی قانون سازی تاحکم ثانی روک دی گئی ہے۔

