بھارتی سینما کے لیجنڈری اداکار امیتابھ بچن نے بالی ووڈ میں کامیابی سے قبل اپنی جدوجہد کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے ان تلخ تجربات کا ذکر کیا ہے، جب انہیں اداکاری نہ آنے اور غیر معمولی قد کے باعث شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
امیتابھ بچن نے یہ انکشاف 2026 کی کامن ویلتھ گیمز کے گولڈ میڈلسٹ کھلاڑیوں لوولینا بورگوہین، جھندو کمار، شرمیلا دھانکر اور اسمتا ڈے کے ساتھ ایک خصوصی پروگرام میں گفتگو کے دوران کیا۔ اس موقع پر اسمتا ڈے نے سوال کیا کہ کیا اداکاروں کو بھی غلطیوں پر کوچ یا ہدایت کار کی ڈانٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
امیتابھ بچن نے مسکراتے ہوئے اپنے ابتدائی کیریئر کی مشکلات بیان کیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں بارہا کہا جاتا تھا کہ انہیں اداکاری نہیں آتی اور ان کا قد اتنا زیادہ ہے کہ وہ اداکار نہیں بن سکتے۔
’’آپ کو اداکاری نہیں آتی، گھر چلے جائیں‘‘
امیتابھ بچن کے مطابق انہیں ان کے ابتدائی دنوں میں کہا جاتا تھا کہ ’’تمہیں کچھ آتا نہیں ہے، اداکاری وغیرہ، تم بہت لمبے ہو، جاؤ گھر جاؤ۔‘‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ فلموں میں کردار ملنے کے بعد بھی تنقید کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔
اداکار نے بتایا کہ انہیں مکالموں کی ادائیگی اور اداکاری کے انداز پر بار بار ٹوکا اور سمجھایا جاتا تھا، لیکن یہی مسلسل ڈانٹ اور رہنمائی رفتہ رفتہ ان کی اداکاری میں بہتری کا سبب بنی۔
گاڑی نہ ہونے پر دیر ہوئی، سیٹ سے نکال دیا گیا
امیتابھ بچن نے اپنے کیریئر کا ایک ایسا واقعہ بھی سنایا جو ان کے لیے خاصا مشکل تھا۔ ان کے مطابق ایک مرتبہ وہ شوٹنگ کے لیے تاخیر سے پہنچے۔ اس وقت ان کے پاس اپنی گاڑی بھی نہیں تھی اور وہ کسی دوسرے شخص کی گاڑی میں بیٹھ کر سیٹ پر پہنچے تھے۔
امیتابھ نے بتایا کہ ہدایت کار سیٹ کے باہر ان کا انتظار کررہے تھے۔ جیسے ہی انہوں نے امیتابھ کو آتے دیکھا تو کہا کہ شوٹنگ پیک اپ ہوچکی ہے۔ اداکار کے مطابق ہدایت کار نے انہیں وہاں سے چلے جانے کا حکم دیتے ہوئے کہا، ’’یہاں سے نکل جاؤ۔‘‘
ریڈیو میں بھی ناکامی کا سامنا
امیتابھ بچن کے فلمی سفر کا آغاز بھی فوری کامیابی سے نہیں ہوا تھا۔ 1969 میں انہوں نے مرنال سین کی فلم ’بھون شوم‘ میں اپنی آواز دی، جس کے بعد ’سات ہندوستانی‘ سے بطور اداکار فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ اس سے قبل وہ آل انڈیا ریڈیو میں نیوز ریڈر کی ملازمت کے لیے آڈیشن بھی دے چکے تھے، تاہم وہاں بھی انہیں کامیابی نہیں ملی۔
بعد ازاں فلم ’زنجیر‘ نے ان کے کیریئر کا رخ بدل دیا اور وہ ہندی سینما کے ’’اینگری ینگ مین‘‘ کے طور پر پہچانے جانے لگے۔ اس کے بعد ’دیوار‘، ’شعلے‘، ’ڈان‘، ’مقدر کا سکندر‘، ’تریشول‘، ’کالا پتھر‘ اور ’اگنی پتھ‘ جیسی فلموں میں ان کی یادگار اداکاری نے انہیں بھارتی فلم انڈسٹری کے صفِ اول کے اداکاروں میں شامل کردیا۔
پانچ دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط کیریئر میں امیتابھ بچن نے مختلف نسلوں اور فلمی اصناف کے ساتھ کام جاری رکھا اور آج بھی بھارتی سینما کے سب سے زیادہ دیرپا اور بااثر ستاروں میں شمار ہوتے ہیں۔
