گرفتاری کی غلط خبر نے بھارتی اداکارہ کو بڑی مشکل میں ڈال دیا

بھارتی اداکارہ انترا بینرجی غلط شناخت کے ایک معاملے کے باعث سوشل میڈیا پر وائرل خبروں کی زد میں آگئیں، جہاں ان پر ٹرین میں ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف) کے اہلکار پر بلیڈ سے حملہ کرنے اور گرفتاری کا الزام عائد کیا گیا۔

اداکارہ کے مطابق انہیں اتوار کی صبح اس وقت پہلی کال موصول ہوئی جب وہ جم جارہی تھیں، جس کے بعد پورے دن میں انہیں 400 سے زائد فون کالز آئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل اپنے اہل خانہ اور دیگر افراد کو وضاحت دیتی رہیں کہ خبر میں جس خاتون کا ذکر ہے وہ میں نہیں ہوں۔

انترا بینرجی نے بتایا کہ صبح ایک آن لائن خبر میں ان کا نام استعمال کیا گیا اور رات تک یہی خبر ان کی تصویر اور نام کے ساتھ مختلف سوشل میڈیا پوسٹس میں پھیل گئی۔

تفصیلات کے مطابق دراصل یہ معاملہ انترا نہیں بلکہ انترا سوہَم بینرجی نامی خاتون سے متعلق تھا، جنہیں 12 اگست کو مبینہ طور پر ٹرین میں ریلوے پولیس اہلکاروں سے جھگڑے اور بعد ازاں بلیڈ سے حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔

اداکارہ نے بتایا کہ ایف آئی آر کی جانچ کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ دونوں خواتین کے نام کے ہجے مختلف ہیں۔ مبینہ ملزمہ کے والد کا نام سوہَم ہے جبکہ اداکارہ کے والد کا نام سبرتا بینرجی ہے۔ اسی طرح ملزمہ کا پتہ تھانے کا ہے جبکہ اداکارہ جوگیشوری، اندھیری ویسٹ میں رہتی ہیں۔

انترا بینرجی نے سوال اٹھایا کہ تصدیق کیے بغیر کسی کی تصویر اور نام خبر میں کیسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس غلطی کو درست کروانے کے لیے متعلقہ افراد سے رابطہ کررہی ہیں اور اپنی ساکھ کے تحفظ کے لیے شکایت اور ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے پر بھی غور کررہی ہیں۔

اداکارہ کا کہنا ہے کہ وہ چاہتی ہیں کہ غلط خبر ہٹائی جائے یا اس حوالے سے واضح تردید اور وضاحت جاری کی جائے، کیونکہ اس طرح کی خبر کسی کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

انترا نے کہا کہ اس واقعے میں انہیں اپنی شہرت سے زیادہ اپنے والدین کے بارے میں فکر ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غلط معلومات ان کے خاندان اور ان کی پیشہ ورانہ ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

خیال رہے کہ انترا بینرجی ’بدھو بہو‘ اور ’کسوٹی زندگی کی‘ جیسے ڈراموں میں اداکاری کرچکی ہیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. AcceptRead More

https://www.googletagmanager.com/gtag/js?id=G-HFZSG9BN9P