جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی ٹیکس کے خلاف کل یعنی 16 اگست شام 4 بجے سے لاہور میں وزیراعلیٰ ہاؤس جبکہ سندھ ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے گورنر ہاوسز کے باہر دھرنے کااعلان کردیا ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے دھرنے میں رکاوٹ یا کوئی ایڈونچر کرنے کی کوشش کی تو پھر یہ دھرنا حکومت گراؤ تحریک میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے تو آئی ایم ایف پروگرام سے بھی زائد لیوی ٹیکس سے 15 سو 67 ارب روپے عوام سے وصول کئے ہیں۔ “ہم اس ظلم پر خاموش نہیں بیٹھیں گے بلکہ 16 اگست سے دھرنوں کے آغاز کا اعلان کررہے ہیں، اختتام کا کوئی اعلان نہیں کررہے۔”
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرول 225 روپے فی لیٹر اور روٹی کی قیمت 10 روپے مقرر کی جائے۔
حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کو آڑھے ہاتھوں لیا اور کہا کہ ہم نے اس سے پہلے 510 مقامات پر دھرنے دیے مگر ایک گملہ بھی نہیں ٹوٹا، اگر حکومت نے ہمارے دھرنے پر کوئی ایڈونچر کرنے کی کوشش کی تو پھر ذمہ دار حکومت ہوگی۔
انہوں نے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدات پر نظرثانی کرنے اور بجلی اور گیس کی قیمتیں کم کرنے کے علاوہ اشرافیہ کی مراعات کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بیوروکریٹس اور حکومتی اہلکاروں کے پاس 1300 سی سی سے بڑی گاڑی نہیں ہونی چاہیے، “حکومتی اخراجات پر کھربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں جس کا بوجھ عوام پر پڑتا ہے۔”
‘عام آدمی کی ڈیمانڈز کون پوری کریگا؟’
انہوں نے گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کا حوالے دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ “ایک گروپ سے بات کر لی ہے، دوسرا گروپ ابھی ہڑتال پر ہے۔ ان کی اپنی ڈیمانڈز ہیں، [پیٹرولیم] ڈیلرز کی اپنی ڈیمانڈز ہیں، لیکن عام آدمی کی ڈیمانڈز کون پوری کریگا۔”
واضح رہے کہ پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کی ہڑتال آج چھٹے روز بھی جاری ہے جبکہ منی مزدہ ایسوسی ایشن نے گزشتہ روز ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔
سرکلر روڈ سمیت لاہور کے مختلف علاقوں میں گڈز ٹرانسپورٹ اڈے بند ہیں جبکہ دیگر شہریوں کو سامان کی ترسیل بھی معطل ہے۔
اتحاد کے صدر نبیل طارق کا کہنا ہے کہ وزیر پٹرولیم سے مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہوئی۔ منی مزدہ ایسوسی ایشن کی ہڑتال تو ختم ہو گئی ہے مگر لاہور سے 80 فیصد سامان کی ترسیل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کرتی ہے۔
دوسری جانب حکومت نے پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی ملک گیر “ہڑتال کی دھمکی” کے بعد گزشتہ روز ان کے مارجن میں ایک روپیہ 34 پیسے اضافے کیا تھا، جس کے بعد ان کا مارجن 9روپے 98 پیسے ہوگیا ہے۔
اس پیش رفت کے بعد ایسوسی ایشن نے ہڑتال کی کال واپیس لے لی تھی۔

