کوئٹہ (آن لائن) کوئٹہ کے نواحی علاقے ہزار گنجی سبزی منڈی کے قریب نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی زرنج رکشے پر فائرنگ کے نتیجے میں سبزی لانے کےلئے جانے والے 2 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے۔ فائرنگ سے علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا ملزمان موقع سے فرار ہوگئے واقعہ کے بعد ہزارہ برادری کے لوگوں نے مشرقی بائی پاس پر رکاوٹیں رکھ کر احتجاج کیا جس سے ہر قسم کی ٹریفک معطل ہوگئی مظاہرے میں مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے ترجمان کاشف حیدری بھی شریک ہوئے ۔ وزیرا علیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے شدید مذمت کرتے ہوئے آئی جی پولیس بلوچستان سے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی۔ جبکہ معاون برائے داخلہ حکومت بلوچستان ، ایس پی پولیس، اسسٹنٹ کمشنر نے مظاہرین سے مذاکرات کئے اور یقین دہانی پر مظاہرین نے احتجاج ختم کرتے ہوئے روڈ ٹریفک کی آمدو رفت کے لئے کھول دیا۔ تفصیلات کے مطابق اتوار کی صبح ہزارہ ٹاﺅن سے 7 افراد صبح سویرے ہزار گنجی سبزی منڈی سے سبزی لانے کے لئے زرنج رکشے پر جارہے تھے کہ تھانہ شالکوٹ کی حدود میں ڈاک خانہ کریٹ گلی کے قریب 2 نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے رکشے پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے محمد موسیٰ اور محمد علی سکنہ ہزارہ ٹاﺅن موقع پر جاں بحق جبکہ جعفر علی شدید زخمی جس کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے اس کے علاوہ چمن علی اور رجب علی بھی زخمی ہوئے جبکہ رکشہ ڈرائیور اور نعیم اور ایک نامعلوم شخص معجزانہ طور پر فائرنگ سے محفوظ رہے۔ واقعہ سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا واقعہ کی اطلا ع ملتے ہی پولیس او رسیکورٹی فورسز کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں علاقے کو گھیرے میں لیکر زخمیوں اور نعشوں کو بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ نعشیں ضروری کارروائی کے بعد ورثاءکے حوالے کردی گئی واقعہ کے بعد ہزارہ برادری اور جاں بحق ہونے والوں کے اہلخانہ اور عزیز و اقارب نے مشرقی بائی پاس پر رکاوٹیں کھڑی کرکے روڈ بلاک کرکے احتجاج کیا جس سے ہر قسم کی ٹریفک معطل ہوگئی اور سڑک کے دونوں جانب گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ واقعہ کا وزیر اعلیٰ بلوچستان اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بذدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ نا قابل برداشت ہے اور اس میں ملوث عناصر قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے اور امن دشمن عناصر کو معصوم جانوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے زخمیوں کو فوری اور بہتر طبی امداد فراہم کی جائے گی۔ مظاہرین سے معاون داخلہ حکومت بلوچستان بابر یوسفزئی ، ایس پی اور اسسٹنٹ کمشنر نے مذاکرات کئے اور قاتلوں کی جلد از جلد گرفتاری اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی اور سیکورٹی کے موثر انتظامات بنانے کی یقین دہانی کرائی جس پر مظاہرین نے وفد کی یقین دہانی پر اپنا پر امن احتجاج سہ پہر 4 بجے ختم کردیا اور پر امن طور پر منتشر ہوگئے اور روڈ کو ٹریفک کی آمدو رفت کیلئے کھول دیا۔جبکہ علامہ آصف حسینی کی قیادت میں کچھ وقت کے بعد دوبارہ دھرنا دیکر روڈ بلاک کردیا۔ مزید کارروائی شالکوٹ پولیس کررہی ہے۔
You might also like