عدالت عالیہ بلوچستان کا سمنگلی روڈ منصوبہ بلا تعطل جاری رکھنے کا حکم

کوئٹہ: چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سمنگلی روڈ سمیت کوئٹہ کے مختلف ترقیاتی منصوبوں سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے سمنگلی روڈ کی تعمیر و گریڈ بہتری کے کام میں مبینہ رکاوٹوں اور نئے تعمیر شدہ فٹ پاتھوں کی دوبارہ کھدائی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو منصوبے کا کام بلا تعطل جاری رکھنے کی ہدایت کردی۔سماعت میں درخواست گزار سید نذیر احمد آغا ایڈووکیٹ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ظہور احمد بلوچ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل محمد فرید ڈوگر، کنٹونمنٹ بورڈ کوئٹہ کے وکیل راجیش ناتھ کوہلی، ثناءاللہ خان بگٹی ایڈووکیٹ، ایس پی لیگل کوئٹہ رحیم خان، پراجیکٹ ڈائریکٹر چیف منسٹر پیکج برائے کوئٹہ ڈویلپمنٹ رفیق بلوچ، ایڈووکیٹ کنوینر کمیٹی شائے حق بلوچ، میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کے وکیل اظہار الحق ترین، ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن شکیل احمد اور پاکستان ریلوے کے وکیل رضوان علی سومرو پیش ہوئے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل محمد فرید ڈوگر نے عدالت کو بتایا کہ کوئلہ پھاٹک کراسنگ کو چوڑا کرنے کا کام مکمل ہوچکا ہے، تاہم حتمی کارروائی پاکستان ریلوے ہیڈکوارٹر لاہور میں زیر التوا ہے، جسے ضروری کارروائی مکمل ہونے کے بعد جلد شروع کردیا جائے گا۔عدالت میں سیکشن 151 سی پی سی کے تحت دستاویزات ریکارڈ پر رکھنے کے لیے سول متفرق درخواست بھی جمع کرائی گئی، جس کے ساتھ منسلک دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ بنا دیا گیا۔ ایس ایس پی کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ عدالتی احکامات سے متعلقہ ٹریفک حکام کو آگاہ کردیا گیا ہے اور ان پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گے۔پراجیکٹ ڈائریکٹر CMPQD نے کالون روڈ کے سامنے عارضی میڈین اوپننگ اور ٹریفک کی صورتحال سے متعلق تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ رپورٹ کے مطابق کولون روڈ پر یومیہ ٹریفک کا حجم 12,342 جبکہ چھٹی کے اوقات میں 1,270 گاڑیاں فی گھنٹہ ہے، جبکہ انسکمب روڈ کے متعلقہ حصے پر یومیہ ٹریفک 6,416 اور چھٹی کے اوقات میں 631 گاڑیاں فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی ہیں۔ٹریفک ماہرین کی رپورٹ میں قرار دیا گیا کہ کالون روڈ تک غلط سمت سے ہونے والی آمدورفت سڑک استعمال کرنے والوں کے رویے اور غلط نقل و حرکت کا مسئلہ ہے، اس لیے کالون روڈ کے سامنے مستقل میڈین اوپننگ کی ضرورت نہیں۔ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ نئی اوپننگ سے زرغون روڈ پر بے قابو موڑ اور ٹریفک کی قطار کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے، جبکہ انسکمب روڈ پہلے ہی متبادل اور مقصد سے بنایا گیا راستہ ہے۔رپورٹ میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے سمتاتی سائن بورڈز، ٹریفک پولیس کے مو¿ثر نفاذ، ڈرائیور آگاہی مہم اور 30 روز بعد ٹریفک صورتحال کی دوبارہ نگرانی کی سفارش کی گئی۔عدالت کو بتایا گیا کہ 24 اگست 2026 سے کنٹونمنٹ بورڈ کوئٹہ کے حکام کی جانب سے سمنگلی روڈ کی گریڈ بہتری کا کام روک دیا گیا تھا۔ مختلف اجلاسوں کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان کی موجودگی میں متعلقہ حکام نے کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا، تاہم بعد ازاں بغیر کسی تحریری اطلاع کے تعمیراتی سرگرمیاں دوبارہ روک دی گئیں۔کنٹونمنٹ بورڈ کوئٹہ کے وکیل راجیش ناتھ کوہلی نے عدالت کو بتایا کہ ایگزیکٹو آفیسر کی جانب سے کارروائی کی گئی ہے تاہم وہ خود کسی ایسی تحریری ہدایت یا حکم سے آگاہ نہیں۔پراجیکٹ ڈائریکٹر نے عدالت کو مزید بتایا کہ 13 فروری 2026 کو متعلقہ سرکاری و نجی اداروں کو خطوط کے ذریعے ہدایت کی گئی تھی کہ سمنگلی، سریاب اور زرغون روڈ پر نئے تعمیر شدہ فٹ پاتھوں اور دیگر ترقیاتی کاموں کو غیر ضروری کھدائی سے محفوظ رکھا جائے اور کسی بھی یوٹیلیٹی ورک سے قبل پراجیکٹ ڈائریکٹر کو پیشگی اطلاع دی جائے۔ اس کے باوجود بعض مقامات پر نجی مزدوروں کے ذریعے نئے تعمیر شدہ فٹ پاتھوں کو دوبارہ توڑا جارہا ہے۔عدالت نے کنٹونمنٹ بورڈ کوئٹہ کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر متعلقہ حکام سے رابطہ کریں اور اگر سمنگلی روڈ کے تعمیراتی کام کو روکنے کا کوئی حکم جاری کیا گیا ہے تو اسے فوری طور پر معطل کرایا جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبے میں رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی اور آئندہ خلاف ورزی کی صورت میں سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں توہین عدالت کی کارروائی بھی شامل ہوسکتی ہے۔عدالت نے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو بھی ہدایت کی کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے۔عدالت نے مزید ہدایت کی کہ پہلے سے تعمیر شدہ علاقوں میں کام کرنے والے تمام سرکاری، نیم سرکاری اور نجی ادارے کسی بھی قسم کی کھدائی یا یوٹیلیٹی ورک شروع کرنے سے قبل پراجیکٹ ڈائریکٹر سے این او سی حاصل کریں گے، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی اور فوجداری کارروائی عمل میں لائی جائے۔عدالت نے حکم کی نقل متعلقہ حکام کو اطلاع اور تعمیل کے لیے ارسال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے آئینی درخواست کی مزید سماعت 24 ستمبر 2026 تک ملتوی کردی۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

https://www.googletagmanager.com/gtag/js?id=G-HFZSG9BN9P