حکومتی کمیٹی سے پٹرولیم لیوی کے حوالے سے مذاکرات میں جماعت اسلامی نے 6 تجاویز پیش کردیں جب کہ مذاکرات جمعرات کو دوبارہ ہوں گے۔
وفاقی دارالحکومت میں پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے معاملے پر حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ختم ہوگیا۔
حکومتی وفد کی قیادت وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال جبکہ جماعت اسلامی کے وفد نے مذاکرات میں شرکت کی۔
مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت نے جماعت اسلامی کو مذاکرات کی دعوت دی اور اس سے پٹرولیم لیوی کے حوالے سے تجاویز طلب کی تھیں۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی نے کہا کہ حکومت کبھی نہیں چاہتی کہ عوام پر اضافی بوجھ پڑے، تاہم دنیا بھر کی معیشتیں ایران جنگ سے متاثر ہوئی ہیں اور بعض مواقع پر حکومت مجبور ہوجاتی ہے۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے اپنی تجاویز حکومت کے سامنے پیش کردی ہیں، جن کا متعلقہ اداروں کی رائے کی روشنی میں جائزہ لیا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر جماعت اسلامی کی کوئی تجویز ناقابلِ عمل ہوئی تو اس سے بھی جماعت اسلامی کو آگاہ کیا جائے گا، متعلقہ اداروں سے رائے لینے کے بعد حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان جمعرات کو دوبارہ مذاکرات ہوں گے۔
مذاکراتی کمیٹی میں شامل مشیر وزیراعظم رانا ثنا اللہ سےصحافی نے صوبوں سے متعلق سوال کیا کہ جس کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ پٹرولیم لیوی سےمتعلق ہی سوال کریں۔
