سلمان خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں طلبہ کے احتجاج کے دوران پیش آنے والے پرتشدد واقعات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ یہ ایک پرامن تحریک تھی، لیکن اسے پرتشدد رخ اختیار کرتے دیکھ کر انہیں شدید افسوس ہوا۔
اداکار نے کہا کہ احتجاج کے دوران جن طلبہ اور ان کے اہلِ خانہ کو کسی بھی قسم کی تکلیف یا نقصان پہنچا، ان کے ساتھ ان کی دلی ہمدردیاں ہیں۔
سلمان خان کا کہنا تھا کہ پرچہ لیک ایک نہایت سنگین مسئلہ ہے اور یہ حوصلہ افزا بات ہے کہ ملک بھر کے طلبہ بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا۔
انہوں نے طلبہ کے عزم، خلوص اور محنت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مستقبل اور معیاری تعلیم کے لیے جس ذمہ داری اور بہادری کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ تعریف ہے۔
بالی ووڈ سٹار نے زور دیا کہ اس معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے کیونکہ یہ صرف طلبہ اور تعلیمی نظام سے متعلق مسئلہ ہے، اس تحریک کا اصل کریڈٹ طلبہ ہی کو ملنا چاہیے، جبکہ حکومت کو ان کے مطالبات سن کر تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہییں۔
سلمان خان نے مزید کہا کہ تعلیم کو ہی آئندہ کا سب سے بڑا رجحان، سب سے اہم ترجیح اور حقیقی فیشن بنایا جانا چاہیے تاکہ ہر گزرتے سال کے ساتھ اس کی اہمیت میں اضافہ ہو اور بھارت دنیا بھر کے طلبہ کے لیے ایک عالمی تعلیمی مرکز بن سکے۔
