کوئٹہ(یو این اے )کوئٹہ میں پولیس حراست کے دوران ایک نوجوان کی مبینہ ہلاکت کے معاملے پر بلوچستان ہائی کورٹ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے اعلی پولیس حکام کو طلب کر لیا ہے۔ چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس جناب محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس جناب محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سی پی نمبر 444/2026 کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار نے مقف اختیار کیا کہ ان کے بیٹے حافظ اسرار احمد کو ایگل اسکواڈ نے گرفتار کیا تھا، تاہم چھ دن بعد پولیس نے اطلاع دی کہ نوجوان نے لاک اپ میں مبینہ طور پر خودکشی کر لی ہے، جبکہ حقیقت میں یہ ایک مشکوک واقعہ ہے اور بی ایم سی کے ڈاکٹر نے بھی موت کو "غیر فطری” قرار دیا ہے۔عدالت نے کیس کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل آفس کو جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی اور ایس پی سریاب، ایس ایچ او کیچی بیگ اور ایس ایچ او نیو سریاب کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی قسم کی کوتاہی یا عدم تعاون برداشت نہیں کیا جائے گا، جبکہ سیشن جج سریاب اور جوڈیشل مجسٹریٹ-II سے بھی علیحدہ رپورٹس طلب کی گئی ہیں۔ عدالتی بینچ نے انسپکشن برانچ کو فوری کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ معاملے کی ہر پہلو سے چھان بین کی جائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔ کیس کی مزید سماعت 21 اپریل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
Trending
- Daily Mashriq 31-05-2026
- گوشت کھانے والوں اور لمبی عمر کے درمیان تعلق پر نئی تحقیق، ماہرین بھی حیران
- گوادر پاکستان کی معاشی ترقی، بحری تجارت اور علاقائی روابط کا اہم مرکز بن رہا ہے وزیر اعلیٰ بلو چستان میر سر فراز بگٹی
- پاکستان سے افغانوں کو وطن واپس لانے والا ٹرک اُلٹ گیا، 10 بچوں سمیت 18 افراد ہلاک،
- فرنچ اوپن میں ایک اور بڑا اپ سیٹ، جوکووچ کا خواب ادھورا رہ گیا
- پاکستان نے معاہدے تک پہنچنے کیلئے مؤثر اور مثبت کردار ادا کیا: ایرانی صدر
- غار میں 5 افراد سیلاب کا پانی بھرجانے سے 8 دن سے موت و زندگی کی کشمکش میں
- پاکستان ایک مخلص دوست، ایران کے ساتھ اچھی ڈیل ہوگی: امریکا
- 73 سال بعد فرانس کا مس یونیورس مقابلے کا بائیکاٹ
- واٹس ایپ، انسٹا اور فیس بک صارفین پیسے دینے کیلئے ہوجائیں تیار!
You might also like