دہائیوں پہلے عطیہ کی گئی رقم سے صحرا کو جنگل میں بدل دینے والی خاتون

ایک ریٹائر امریکی ٹیچر 26 سال بعد چین سے تعلق رکھنے والی کاشتکار خاتون سے دوبارہ ملا ہے۔

ایسا اس وقت ہوا ہے جب خاتون نے امریکی استاد کی جانب سے دیے جانے والے عطیے کی مدد سے ایک بنجر نظر آنے والے خطے کو سرسبز جنگل میں تبدیل کر دیا۔

1999 میں امریکی شہری اور ٹیچر رونالڈ ساکولسکی صوبہ ہینان میں چینی شہریوں کو انگلش بولنے کی تعلیم دے رہے تھے اور انہوں نے ین یوزین نامی خاتون کو 5 ہزار ڈالرز کا عطیہ دیا۔

اب 67 سال کی عمر میں وہ ایک بار پھر 60 سالہ ین یوزین سے ملے ہیں۔

چین کے صوبے Shannxi کے ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والی ین یوزین کی شادی 1980 کی دہائی میں اندرونی منگولیا کے صحرائے Maowuse میں مقیم ایک شخص سے ہوئی تھی۔

یہ چین کے 4 بڑے صحراؤں میں سے ایک ہے۔

اس وقت سے ین یوزین اور ان کے شوہر وہاں شجر کاری کر رہے ہیں تاکہ خشک سالی کے چیلنج پر قابو پایا جاسکے۔

1999 میں چین کے حکومتی میڈیا ادارے سی سی ٹی وی نے ین یوزین کے بارے میں ایک رپورٹ نشر کی تھی، جسے دیکھ کررونالڈ ساکولسکی بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے ین یوزین کو 5 ہزار ڈالرز کا عطیہ دیا۔

مئی 2026 میں ین یوزین نے رونالڈ ساکولسکی کو کو اس جنگل کو دیکھنے کی دعوت دی تھی۔

دہائیوں پہلے عطیہ کی گئی رقم سے صحرا کو جنگل میں بدل دینے والی خاتون
خاتون امریکی شہری سے دوبارہ ملتے ہوئے / اسکرین شاٹ
اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ین یوزین نے بتایا کہ ‘میں نے کبھی اتنی زیادہ رقم نہیں دیکھی تھی، اس عطیے نے مجھے حیران کر دیا تھا، میں نے اس رقم کو زیادہ بیج خریدنے اور درخت لگانے کے لیے استعمال کیا، جب رونالڈ ساکولسکی وہاں آئے تو انہوں نے مجھے صحرا میں درخت لگاتے ہوئے دیکھا، انہوں نے صحرا کی زرد ریت کو دیکھا اور کہا کہ ناممکن، ناممکن’۔

مگر دہائیوں بعد وہ بیج 50 ہزار سے زائد بڑے درختوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔

رونالڈ ساکولسکی کے عطیے کی مدد سے ین یوزین نے اس صحرا میں 50 ہزار سے زائد درختوں کی شجر کاری کی۔

آج صحرائے Maowuse کا 80 فیصد سے زائد حصہ سبزے سے بھر چکا ہے۔

23 اگست کو رونالڈ ساکولسکی چین کے Ordos ائیرپورٹ پر ین یوزین سے ملے۔

اس موقع پر اشکبار رونالڈ ساکولسکی نے بتایا کہ ‘میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں دوبارہ ین یوزین سے مل سکتا ہوں، یہ ایک کرشمے سے کم نہیں، اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے وعدوں کو پورا کرسکتے ہیں’۔

دہائیوں پہلے عطیہ کی گئی رقم سے صحرا کو جنگل میں بدل دینے والی خاتون
دہائیوں سے یہ خاتون صحرا کو سر سبز بنانے کا کام کر رہی ہیں / فوٹو بشکریہ QQ.com
اگلے دن انہوں نے صحرا میں خاتون کی جانب سے کاشت کیے جانے والے پھلوں اور سبزیوں کو چکھا اور ان کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ ‘اگر آپ زمین کا خیال رکھیں تو زمین کی جانب سے آپ کو انعام دیا جاتا ہے، 4 دہائیوں سے زائد عرصے تک صحرا سے جنگ لڑنے والی ین یوزین اب کامیاب ہوچکی ہیں’۔

اس جنگل کا نام بھی سرکاری حکام نے ساکولسکی فارسٹ رکھا ہے اور وہاں رونالڈ ساکولسکی نے ایک درخت بھی ین یوزین کے ساتھ لگایا۔

ین یوزین نے بتایا کہ انہیں صحرا کو سر سبز بنانے کی قیمت ادا کرنا پڑی ہے اور وہ جنگل کی تو ماں بن گئی مگر خاندان کی نہیں بن سکیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More

https://www.googletagmanager.com/gtag/js?id=G-HFZSG9BN9P