پمز کے نئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد سلمان نے چارج سنبھال لیا اور کہا کہ انکوائری کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ پر عملدرآمد ترجیح ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ڈاکٹر محمد سلمان نے کہا کہ حکومت نے اعتماد کرتے ہوئے یہ اہم ذمہ داری دی ہے، مشکل حالات میں چارج لیا، چیلنجز کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں۔
ڈاکٹر محمد سلمان نے کہا کہ ہر ممکن طریقے سے مسائل حل کریں گے، سانحہ پمز کی تحقیقات جاری ہیں، یقینی بنائیں گے کہ ایسا واقعہ آئندہ نہ ہو، ہم مریضوں کی حفاظت یقینی بنائیں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ابتدائی اقدامات اسی لئے کئے گئے ہیں تاکہ انکوائری شفاف ہوسکے، پمز میں مریضوں کا بوجھ زیادہ ہے اس کا بھی کوئی حل نکالیں گے۔
قبل ازیں پمز ہسپتال کے 21 گریڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر رانا عمران سکندر کی 4 ماہ کے لیے معطلی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، این آئی ایچ کے ڈاکٹر محمد سلمان کو 3 سال کیلئے پمز کا ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعینات کیا گیا ہے، ڈاکٹر سلمان این آئی ایچ کے بھی ایگزیکٹو ڈائریکٹر رہیں گے۔
نوٹیفکیشن کےمطابق ڈاکٹر الطاف حسین کو 3 ماہ کیلئے پمز ہسپتال کا جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعینات کیا گیا ہے، پمز ہسپتال کے دیگر شعبوں سے متعلق بھی انتظامی نوٹیفکیشن جاری کردیے گئے۔
یاد رہےکہ وزیراعظم شہباز شریف نے پمز سانحے پر ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر سمیت 8 افراد کو فوری معطل کر کے فوجداری کارروائی کرنے کی منظوری دی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: پمز کے 8 ذمہ دار معطل، فوجداری کارروائی منظور، ایک نرس کیلئے ستارہ خدمت
ان 8 افراد میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، سکیورٹی پر مامور کمپنی اور عہدیداران کے خلاف کارروائی کی بھی منظوری دی گئی تھی، معطل ہونے والوں میں جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور ڈاکٹر اویس علی شاہ شامل ہیں۔
ان کے علاوہ ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سکیورٹی محمد عثمان، سی ڈی اے کے ایمرجنسی سروس کے ڈی جی عبدالرحمان، نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ ڈاکٹر سعدیہ ریاض اور سینئر رجسٹرار بھی معطل ہونے والوں میں شامل تھے۔
وزیراعظم نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر بچے کی جان بچانے والی سٹاف نرس رضیہ نورین کے لیے ستارۂ خدمت دینے کی منظوری دی جب کہ وارڈ میں موجود ایک نرس اور خاتون گارڈ کو او ایس ڈی بنا کر مزید تحقیقات کی ہدایت کی۔
