انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بھارتی کپتان سوریا کمار یادو کو ایشیا کپ کے 14 ستمبر کے گروپ میچ کے بع دپاک-بھارت جنگ کے حوالے سے بیانات پر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا ہے۔ بھارتی کپتان سوریا کمار یادو کی ’بے قصور‘ ہونے کی درخواست کو آئی سی سی میچ ریفری رچی رچرڈسن نے مسترد کر دیا، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ بھارتی کپتان پر کون سی سزا عائد کی گئی۔
امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ سوریا کمار یادو کو ڈی میرٹ پوائنٹس یا جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، بھارت نے قومی ٹیم کے کپتان کے حوالے سے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔
پاکستان کے دو کھلاڑی، صاحبزادہ فرحان اور حارث رؤف، نے بھی21 ستمبر کو ہونے والے سپر فور میچ کے بعد آج تادیبی سماعتوں کا سامنا کیا، صاحبزادہ فرحان کو اپنی نصف سنچری کے بعد بندوق چلانے کی سیلبیریشن پر طلب کیا گیا، جبکہ حارث رؤف کو کیمرے پر جہاز گرانے کے اشارے کرتے ہوئے دیکھا گیا، دونوں کھلاڑیوں کے خلاف تاحال فیصلہ نہیں سنایا گیا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے آئی سی سی سے شکایت کی تھی کہ 14 ستمبر کے میچ کے بعد سوریا کمار یادو کے پوسٹ میچ پریزنٹیشن اور پریس کانفرنس میں بیانات، سیاسی پیغام رسانی سے اجتناب کے ضابطے کی خلاف ورزی تھے۔
ذرائع کے مطابق میچ ریفری نے حارث روف سے 0-6 کا مطلب پوچھا، حارث رؤف نے الٹا میچ ریفری سے استفسار کیا کہ آپ بتائیں 0-6 کا مطلب کیا ہے جس پر اعتراض ہے؟
ذرائع کے مطابق میچ ریفری نے حارث رؤف سے اشارے بار بار کرنے کی وجہ پوچھی، حارث رؤف نے جواب دیا کہ کسی کی دل آزاری کے لیے اشارے نہیں کیے۔
ذرائع کے مطابق صاحبزادہ فرحان نے کہا کہ سیلیبریشن کا مقصد کسی کو ٹارگٹ کرنا نہیں تھا، ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کی جانب سے فیصلہ آج ہی سامنے آنے کا امکان ہے۔
بلکہ انہوں نے پوسٹ میچ پریزنٹیشن اور پریس کانفرنس میں کرکٹ قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ آج کی جیت کو پہلگام واقعے کے نام کرتا ہوں، پاکستان کے خلاف بھارتی آرمی کے لیے ہماری طرف سے یہ تحفہ ہے‘۔
واضح رہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) قوانین میں سیاست، مذہب اور رنگ و زبان کے معاملے پر کھلاڑیوں کا گفتگو کرنا ممنوع ہے۔