کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں یوم عاشور 10 محرم الحرام کے موقع پر سیکیورٹی کے غیر معمولی اور فول پروف انتظامات مکمل
کوئٹہ:صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں یوم عاشور (10 محرم الحرام) کے موقع پر سیکیورٹی کے غیر معمولی اور فول پروف انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ حکومت بلوچستان، محکمہ داخلہ، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے اور عزاداروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ سیکیورٹی پلان پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں کوئٹہ سمیت حساس اضلاع میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس کی معطلی، مرکزی شاہراہوں کی بندش، جلوس کے راستوں کی مکمل سیلنگ اور دفعہ 144 کے نفاذ سمیت متعدد حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں‘محکمہ داخلہ بلوچستان کے مطابق یوم عاشور کے موقع پر کوئٹہ میں صبح 6 بجے سے رات 12 بجے تک موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل رہے گی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ اسی طرح ضلع کچھی، جھل مگسی، جعفرآباد اور اوستہ محمد میں بھی موبائل فون سروس بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا اور جلوسوں کے دوران کسی بھی ممکنہ خطرے کو روکنا ہے‘سیکیورٹی پلان کے تحت دسویں محرم کے مرکزی ماتمی جلوس کے تمام راستوں کو قناتیں لگا کر، کنٹینرز اور بھاری گاڑیاں کھڑی کرکے مکمل طور پر سیل کر دیا جائے گا۔ جلوس کے راستوں میں واقع تمام دکانیں، مارکیٹیں، پلازے، تجارتی مراکز اور کاروباری ادارے بند رہیں گے، جبکہ غیر متعلقہ افراد کی آمد و رفت پر بھی پابندی ہوگی۔ جلوس کے راستوں سے ملحقہ گلیوں اور داخلی و خارجی راستوں پر سخت چیکنگ کا نظام نافذ کیا جائے گا تاکہ صرف متعلقہ افراد کو ہی داخلے کی اجازت دی جا سکے‘حکام کے مطابق کوئٹہ میں یوم عاشور کی سیکیورٹی کے لیے پولیس، بلوچستان کانسٹیبلری، لیویز فورس، فرنٹیئر کور (ایف سی)، انسداد دہشت گردی فورس، بم ڈسپوزل اسکواڈ، اسپیشل برانچ اور دیگر حساس اداروں کے آٹھ ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ شہر کے حساس مقامات پر اضافی نفری بھی موجود رہے گی جبکہ پاک فوج کے دستے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اسٹینڈ بائی رہیں گے۔ جلوس کی نگرانی جدید سی سی ٹی وی کیمروں، ڈرون ٹیکنالوجی اور دیگر سیکیورٹی ذرائع سے کی جائے گی، جبکہ سادہ لباس اہلکار بھی جلوس میں موجود رہ کر مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھیں گے‘دوسری جانب حکومت بلوچستان نے یوم عاشور کے موقع پر کوئٹہ سمیت مختلف اضلاع میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ اس دوران اسلحہ کی نمائش، نفرت انگیز تقاریر، اشتعال انگیز مواد کی تقسیم، لاو¿ڈ اسپیکر کے غیر قانونی استعمال، غیر متعلقہ اجتماعات اور دیگر ممنوعہ سرگرمیوں پر مکمل پابندی ہوگی۔ ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان احکامات پر سختی سے عمل درآمد کرانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں‘ٹریفک پولیس نے بھی یوم عاشور کے موقع پر خصوصی ٹریفک پلان جاری کر دیا ہے، جس کے تحت مرکزی جلوس کے روٹس پر ہر قسم کی ٹریفک بند رہے گی جبکہ شہریوں کے لیے متبادل راستوں کا تعین کیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، متبادل راستے استعمال کریں، سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک شخص یا لاوارث شے کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں‘دوسری جانب موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس کی معطلی، مرکزی شاہراہوں کی بندش اور تجارتی مراکز کی سیلنگ کے باعث شہریوں، تاجروں، طلبہ اور ملازمت پیشہ افراد کو مشکلات کا سامنا کرنے کا خدشہ ہے۔ کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ مسلسل دو روز تک بازار بند رہنے سے مالی سرگرمیاں متاثر ہوں گی، تاہم شہریوں کی بڑی تعداد نے امن و امان کے قیام اور عزاداروں کے تحفظ کے لیے کیے گئے سیکیورٹی انتظامات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یوم عاشور کے تمام جلوس اور مجالس پرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوں گی‘حکام نے واضح کیا ہے کہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے مکمل طور پر الرٹ ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے تاکہ دسویں محرم الحرام کے تمام مذہبی اجتماعات اور ماتمی جلوس پرامن اور محفوظ ماحول میں اختتام پذیر ہو سکیں۔
