دالبندین میں پاکستانی فیول نایاب، ایرانی فیول پاکستانی پیٹرول سے بھی مہنگا فروخت ہونے لگا

دالبندین: دالبندین سمیت ضلع چاغی کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فیول نایاب ہو چکا ہے جبکہ ایرانی فیول پاکستانی پیٹرول سے بھی مہنگا فروخت ہو رہا ہے۔ اس وقت دالبندین اور دیگر علاقوں میں ایرانی فیول 305 روپے سے لے کر 315 روپے فی لیٹر تک فروخت کیا جا رہی ہے، جس کے باعث نہ صرف ٹرانسپورٹرز بلکہ تاجر برادری اور عام شہری بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ پاک ایران سرحدی ضلع چاغی میں عموما ایرانی فیول ہی استعمال کیا جاتا ہے، تاہم پاکستانی فیول کی عدم دستیابی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایرانی فیول فروخت کرنے والے منی پمپس مالکان اپنی من مانی کر رہے ہیں اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں انتظامیہ بالکل بے بس نظر آتی ہے جبکہ فیول مافیا اپنی مرضی کے نرخ مقرر کر کے عوام کو لوٹ رہا ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ عموما ایرانی فیول پاکستانی فیول کے مقابلے میں 100 سے 150 روپے فی لیٹر سستا فروخت ہوتا رہا ہے، مگر ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ناجائز منافع خور عوام کو اب تک لوٹ رہے ہیں۔ فیول کی قیمتوں میں اس بے پناہ اضافے کے باعث ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ روزمرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ بھی مہنگی فروخت ہو رہی ہیں جس سے پسماندہ ضلع کے عوام پر مہنگائی کا اضافی بوجھ پڑ گیا ہے۔ شہریوں نے انتظامیہ اور اعلی حکام سے پرزور اپیل کی ہے کہ خدارا ضلع چاغی کے عوام کو پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نجات دلانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور شہر بھر میں قائم اوپن منی پمپس کی من مانیوں کو روک کر قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. AcceptRead More

https://www.googletagmanager.com/gtag/js?id=G-HFZSG9BN9P