دالبندین(نماہندہ مشرق)دالبندین: سیاہ پاد رند ہاو¿س، کلی خدائے رحیم میں ممتاز قبائلی رہنما ملک عبدالقدوس سیاہ پاد رند نے سیاہ پاد قبیلے کے درمیان خون کا تصفیہ کرا دیا۔دو سال قبل سرحدی شہر تفتان میں معمولی تنازعے پر میر حسن ولد علی حسن سیاہ پاد کو رحمت اللہ سیاہ پاد، عبدالصمد سیاہ پاد اور فائق محمد شہی نے ڈنڈوں، پتھروں اور چاقوو¿ں کے وار سے شہید کر دیا تھا۔ بعد ازاں علی حسن سیاہ پاد نے اپنے بیٹے کا بدلہ لینے کے لیے فائرنگ کر کے بید اللہ سیاہ پاد رند کو شدید زخمی کر دیا۔بعد ازاں ملک عبدالقدوس سیاہ پاد رند، سید خان سیاہ پاد رند، نذر ریکی اور حضرت سیاہ پاد رند نے دونوں فریقین کے درمیان ثالثی کرتے ہوئے اہم کردار ادا کیا اور انہیں راضی کر لیا۔بروز ہفتہ 25 اپریل کو دالبندین میں سیاہ پاد رند ہاو¿س پر دونوں فریقین—ایک جانب علی حسن (جس کا بیٹا شہید کیا گیا تھا) اور دوسری جانب رحمت اللہ، عبدالصمد سیاہ پاد اور فائق محمد شہی اپنی برادری کے ہمراہ موجود تھے، جہاں بلوچی رسم و رواج کے مطابق بغلگیر ہو کر صلح کر لی گئی اور شیرو شکر ہو گئے۔اس موقع پر ممتاز قبائلی رہنماو¿ں میں وڈیرہ لیاقت سیاہ پاد، مولا بخش سیاہ پاد، سعد اللہ محمد حسنی، حاجی نور احمد سیاہ پاد، میر سونا خان رند، میر یوسف خان رند، ملک عبدالحق سیاہ پاد، ٹکری مصطفی سیاہ پاد، ٹکری عبد الغفار بنگللزئی ،سید خان سیاہ پاد، ملک طاہر سیاہ پاد، ماسٹر عطائ اللہ سیاہ پاد، اولیا خان سیاہ پاد، ملک سیف اللہ سیاہ پاد، میر اکرم سیاہ پاد ماشکیل ،قادر سیاہ پاد، عمر رند، ظفر سیاہ پاد، میر کبیر خارکوئی سیاہ پاد، داد خدا سیاہ پاد، حاجی مراد خارکوئی سیاہ پاد، ملا خیر بخش گمشادزئی، عبدالرحمان سور، خلیل ہوت، مولا بخش سیاہ پاد رند احسان سیاہ پاد اور دیگر قبائلی عمائدین شریک تھے۔اس موقع پر ملک عبدالقدوس سیاہ پاد رند نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قبیلے میں تنازعے کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ چھوٹے چھوٹے مسائل پر ایک دوسرے کو برداشت کریں۔آخر میں دعا خیر کی گئی اور تمام شرکائ کی پرتکلف ظہرانے سے تواضع کی گئی۔
Next Post
You might also like