مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے ڈبل روڈ کو نوپارکنگ کے فیصلے کو مسترد کر دیا – Daily Mashriq Newspaper Quetta
Mashriq Newspaper

مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے ڈبل روڈ کو نوپارکنگ کے فیصلے کو مسترد کر دیا

کوئٹہ : مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے کوئٹہ شہر کے وسطی علاقے ڈبل روڈ کو “نو پارکنگ” قرار دینے کے حکومتی فیصلے کو سختی سے مسترد کر دیا۔ اس سلسلے میں انجمن تاجران ڈبل روڈ کے تاجروں کی جانب سے ایک احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا، جس میں مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم کاکڑ، سینئر نائب صدر حضرت علی اچکزئی، چیئرمین عمران ترین، نائب صدر محمد جان آغا سمیت ڈبل روڈ کے تاجروں کی کابینہ کے اراکین آفتاب آغا، رحیم الکوزئی، واحد بڑیچ، بسم اللہ بارکزئی، حاجی اشرف، حیات ماما اور دین محمد خلجی نے شرکت کی۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے ڈبل روڈ کو نو پارکنگ قرار دینے کے فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ڈبل روڈ کوئٹہ شہر کا واحد مرکزی کاروباری مرکز ہے جہاں آٹو پارٹس اور مکینک کی دکانیں واقع ہیں۔ ایسے اہم تجارتی مرکز میں پارکنگ پر پابندی عائد کرنا تاجروں کے معاشی قتلِ عام کے مترادف ہے۔مقررین کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے شہر میں پارکنگ کی کوئی مناسب سہولت فراہم نہیں کی گئی۔ بجائے اس کے کہ پارکنگ پلازے تعمیر کیے جائیں یا شاہراہوں کو کشادہ کر کے عوام کو سہولت دی جائے، الٹا ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جو عوام اور تاجروں کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن رہے ہیں۔صدر مرکزی انجمن تاجران بلوچستان رحیم کاکڑ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ماضی میں بھی ڈبل روڈ کے تاجروں پر اسی نوعیت کے ناروا فیصلے مسلط کیے گئے، جنہیں تاجروں نے مسترد کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے ہر شہر میں ایک مرکزی سڑک آٹو پارٹس اور مکینک کے کاروبار کے لیے مخصوص ہوتی ہے، جہاں شہری اپنی گاڑیوں کے لیے ضروری پرزہ جات حاصل کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں حکومت کی جانب سے آٹو پارٹس اور مکینک کے کاروبار کو ہزارگنجی منتقل کرنے کا منصوبہ بھی سامنے آیا تھا، جس پر اب بھی عملدرآمد کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم شہر کی موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر شہری ڈبل روڈ تک آنے میں بھی عدم تحفظ محسوس کرتے ہیں، ایسے میں معمولی خریداری کے لیے ہزارگنجی جانا ان کے لیے ممکن نہیں۔اجلاس کے اختتام پر مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے واضح کیا کہ وہ اس فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں اور اپنے تحفظات اعلیٰ حکام تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر یہ فیصلہ فوری طور پر واپس نہ لیا گیا مرکزی انجمن تاجران کوئٹہ شہر کے تمام یونٹس کے عہدیداروں کو بلاکر پریس کانفرنس کے ذریعے کوئٹہ شہر بھر میں بھرپور احتجاج کی کال دی جائے گی۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.