چار شادیوں کے بعد پیدا ہونے والا اکلوتا بیٹابآٹھ بہنوں کا واحد بھائی اپنی شادی سے صرف ایک ہفتہ پہلے زیارت کا عطا اللہ کیسے زندگی ہار گیا
چار شادیوں کے بعد پیدا ہونے والا اکلوتا بیٹابآٹھ بہنوں کا واحد بھائی اپنی شادی سے صرف ایک ہفتہ پہلے زیارت کا عطا اللہ کیسے زندگی ہار گیا
شادی سے ایک ہفتہ پہلے شہادت آٹھ بہنوں کے اکلوتے بھائی عطا اللہ کی المناک داستان لواحقین انصاف کے منتظر
زیارت یہ کہانی ضلع زیارت کے علاقے ورچوم سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ پولیس اہلکار عطا اللہ کی ہے، جن کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی صرف ایک ہفتہ دور تھی، مگر قسمت نے انہیں شادی کے جوڑے کی بجائے کفن پہنا دیا
عطا اللہ آٹھ بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے اہلِ خانہ کے مطابق ان کے والد نے بیٹے کی خواہش میں چار شادیاں کیں جس کے بعد عطا اللہ کی پیدائش ہوئی۔ وہ پورے خاندان کی امید، والدین کا سہارا اور آٹھ بہنوں کے واحد بھائی تھے
14 جولائی کو ان کی شادی طے تھی جبکہ اسی روز ان کی ایک بہن کی بھی رخصتی ہونا تھی۔ گھر میں شادی کی تیاریاں جاری تھیں
دلہے کا لباس تیار تھا، کمرہ سجایا جا رہا تھا اور خوشیوں کا سماں تھا لیکن چند روز قبل انہیں اطلاع دی گئی کہ ان کی منظور شدہ دو ماہ کی چھٹی منسوخ کر دی گئی ہے اور انہیں فوری طور پر ڈیوٹی پر حاضر ہونا ہوگا
عطا اللہ کو مانگی ڈیم کے قریب ایک حساس پولیس چوکی پر تعینات کیا گیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق 6 جولائی کو چوکی پر حملہ ہوا جہاں کئی گھنٹوں تک شدید فائرنگ ہوتی رہی
صحافی رحمت موسیٰ خیل نے ایک دوست سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہاکہ میں نے عطاء اللہ کے والدین سے پوچھا تو انہوں نے کہاکہ حملے کے دوران جب پولیس اہلکار محاصرے میں آ گئے تو عطا اللہ نے آخری مرتبہ اپنی بہن کو فون کیا ان کے مطابق اس فون کال میں انہوں نے اپنی جان کے خطرے کا ذکر کیا اس کے بعد ان سے دوبارہ کبھی رابطہ نہ ہو سکا
چند گھنٹوں بعد خاندان کو اطلاع ملی کہ عطا اللہ حملے میں شہید ہو گئے ہیں جس گھر میں شادی کی خوشیاں منائی جانی تھیں وہاں صفِ ماتم بچھ گئی۔ دلہے کے لباس کی جگہ کفن آ گیا اور شادی کے گیتوں کی جگہ آہوں اور سسکیوں نے لے لی
زیارت حملے میں شہید ہونے والے دیگر اہلکاروں کے لواحقین بھی انصاف اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں ان کا مؤقف ہے کہ حملے کے دوران بروقت امداد نہ پہنچنے کے الزامات کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں
واقعے کے بعد متعدد شہداء کے لواحقین نے میتوں کے ساتھ احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حملے کے تمام پہلوؤں کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں
