پاکستان تحریک انصاف نے تحریک انصاف نے پنجاب کی سٹینڈنگ کمیٹیوں سے استعفے دینے کا عندیہ دیدیا۔
سینیٹر علی ظفر کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کا کہنا تھا کہ کافی دنوں بعد بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی ہے، بانی پی ٹی آئی ٹھیک اور ہائی سپرٹ میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کا ٹرائل مکمل ہوگیا ہے، 13 اکتوبر کو حتمی دلائل ہونگے امید ہے منگل بدھ تک فیصلہ آئے گا، بانی کے خلاف یہ پانچواں بوگس کیس ہے، یہ سارے کیسز سیاسی ہیں تاکہ بانی کو اندر رکھا جائے۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ بانی نے کہا اپنی قوم کو جھکنے نہیں دونگا، بانی نے کہا علی امین گنڈا پور ان کا وفادار ساتھی ہے، ان کا مضبوط امیدوار تھا، بانی کو صوبے میں ملٹری آپریشنز پر شدید تحفظات تھے، بانی نے کہا سیاسی حکمت عملی کے بغیر کوئی آپریشن کامیاب نہیں ہوسکتا۔
چیئرمین پی ٹی آئی کے مطابق عمران خان نے کہا ہماری پارٹی اور صوبہ ان چیزوں کا متحمل نہیں، وزیراعلیٰ کی تبدیلی کی ٹرانزیشن جلد سے جلد مکمل ہو، نئے وزیر اعلیٰ کے منصب سنبھالنے کے بعد بانی کابینہ کے نام فائنل کریں گے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی نے پنجاب اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹیز سے فوری مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے، پنجاب میں پی ٹی آئی کے پاس 14 سٹینڈنگ کمیٹیز ہیں، بانی نے تمام سٹینڈنگ کمیٹیز سے استعفی دینے کی ہدایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کی چیئرمین شپ کا کوئی ایشو نہیں ہے، اگر آج میں استعفیٰ دوں پی ٹی آئی پارٹی ہیڈ سے فارغ ہوجائے گی، اگر میں استعفیٰ دوں تو سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق پارٹی ختم ہوجائے گی۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی کو علی امین گنڈا پور سے صوبے میں امن امان اور دہشت گردی کے اوپر تحفظات تھے، نیا وزیر اعلیٰ وہی ہے جو بانی نے نامزد کیا ہے، ہماری گورنر کے پی سے درخواست ہے وہ استعفیٰ قبول کرے تاکہ سموتھ ٹرانزیشن ہو۔