کوئٹہ: صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کی مصروف ترین جناح روڈ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں مبینہ طور پر مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے باعث شہریوں، تاجروں اور بالخصوص خواتین و بچوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق جناح روڈ کے مختلف مقامات پر منشیات کے عادی افراد کھلے عام موجود رہتے ہیں اور بعض افراد مبینہ طور پر سرِعام نشہ کرتے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں مقامی افراد کا کہنا ہے کہ صورتحال اس حد تک سنگین ہوچکی ہے کہ خواتین بھی سرعام منشیات استعمال کرنے والے افراد میں شامل نظر آتی ہیں۔ شہریوں کے مطابق نشے کی لت میں مبتلا افراد کی موجودگی نہ صرف شہر کے مرکزی علاقوں کے ماحول کو متاثر کر رہی ہے بلکہ عوامی مقامات پر آنے جانے والے شہریوں کے لیے بھی تشویش کا باعث بن رہی ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ جناح روڈ کوئٹہ کا ایک اہم اور مصروف تجارتی و شہری مرکز ہے جہاں روزانہ بڑی تعداد میں لوگ خریداری، کاروباری امور اور دیگر کاموں کے لیے آتے ہیں۔ ایسے میں منشیات کے عادی افراد کا کھلے عام موجود رہنا اور مبینہ طور پر نشہ کرنا شہر کے مجموعی ماحول اور انتظامی نگرانی پر بھی سوالات اٹھا رہا ہے مقامی ذرائع کے مطابق منشیات کے عادی افراد کی جانب سے سڑکوں، فٹ پاتھوں اور دیگر عوامی مقامات پر ڈیرے ڈالنے کے باعث کئی شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بعض افراد نشے کی حالت میں سڑکوں کے کنارے بیٹھے یا لیٹے رہتے ہیں، جس سے پیدل چلنے والوں اور کاروباری مراکز میں آنے والے افراد کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے دوسری جانب شہریوں نے متعلقہ پولیس اور انتظامیہ کی مبینہ خاموشی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ منشیات کے عادی افراد کی موجودگی کے باوجود ان کے خلاف مثر کارروائی دکھائی نہیں دے رہی، جبکہ متعلقہ تھانوں اور پولیس حکام کو متعدد مرتبہ صورتحال سے آگاہ کیے جانے کے باوجود مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل نہیں ہوسکا یو این اے کے مطابق کوئٹہ کے سٹی تھانے کے اندر اور اطراف میں بھی منشیات کے عادی افراد کی بڑی تعداد کے جمع ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تھانے کے احاطے میں بھی ایسے افراد کی موجودگی شہریوں کے لیے حیران کن صورتحال بن چکی ہے مقامی ذرائع کا دعوی ہے کہ سٹی تھانے کے اندر ایک ہوٹل بھی قائم کردیا گیا ہے جہاں مبینہ طور پر منشیات کے عادی افراد کو کھانے اور ناشتے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ اس حوالے سے شہریوں میں مختلف سوالات اٹھ رہے ہیں کہ پولیس تھانے کے احاطے میں ایسی سہولت کس مقصد کے لیے قائم کی گئی اور اس کی اجازت کس سطح پر دی گئی شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر پولیس تھانے کے احاطے میں منشیات کے عادی افراد کی موجودگی اور ان کے لیے کھانے پینے کی سہولت کی اطلاعات درست ہیں تو اس معاملے کی باقاعدہ انکوائری ہونی چاہیے اور حقائق عوام کے سامنے لائے جانے چاہئیں تاہم ان دعوں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی، اس لیے متعلقہ پولیس حکام کا مقف سامنے آنا بھی ضروری ہے تاکہ صورتحال کی اصل حقیقت واضح ہوسکے شہریوں، تاجروں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جناح روڈ سمیت کوئٹہ کے تمام اہم بازاروں، شاہراہوں، پارکوں اور عوامی مقامات پر منشیات کے استعمال اور خرید و فروخت کے خلاف مثر کارروائی کی جائے شہریوں کا کہنا ہے کہ صرف منشیات کے عادی افراد کو گرفتار کرنا مسئلے کا مستقل حل نہیں، بلکہ منشیات کی سپلائی اور فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف بھی سخت کارروائی ضروری ہے۔ ان کے مطابق جب تک منشیات کی دستیابی اور سپلائی کا سلسلہ نہیں روکا جائے گا، نشے کے عادی افراد کی تعداد میں کمی لانا مشکل ہوگا سماجی حلقوں نے کہا ہے کہ منشیات کی لت میں مبتلا افراد میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی بھی ہوسکتی ہے جو علاج اور بحالی کے محتاج ہیں۔ حکومت کو پولیس کارروائی کے ساتھ ساتھ بحالی مراکز، علاج، مشاورت اور نفسیاتی مدد کی سہولیات بھی فراہم کرنی چاہئیں تاکہ نشے کے عادی افراد کو دوبارہ معاشرے کا فعال حصہ بنایا جاسکے شہریوں اور سماجی کارکنوں نے خواتین میں مبینہ طور پر منشیات کے استعمال کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خواتین اور خصوصا نوجوان نسل کا منشیات کی طرف راغب ہونا ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے سماجی حلقوں کے مطابق خواتین کے لیے مخصوص بحالی اور علاج کے مراکز کی ضرورت ہے تاکہ نشے کی عادی خواتین کو معاشرتی دبا اور بدنامی کے خوف کے بغیر علاج کی سہولت فراہم کی جاسکے انہوں نے حکومت، محکمہ صحت، پولیس، ضلعی انتظامیہ اور سماجی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ منشیات کے خاتمے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تشکیل دی جائے اور کوئٹہ کے حساس علاقوں میں خصوصی نگرانی بڑھائی جائے جناح روڈ پر کاروبار کرنے والے بعض تاجروں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ منشیات کے عادی افراد کی بڑھتی ہوئی موجودگی کے باعث علاقے کے ماحول پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شام کے اوقات میں صورتحال مزید حساس ہوجاتی ہے اور خاندانوں کے ساتھ بازار آنے والے شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جناح روڈ اور دیگر مرکزی شاہراہوں پر پولیس گشت بڑھایا جائے، مشکوک سرگرمیوں کی نگرانی کی جائے اور منشیات فروشوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے ان کا کہنا ہے کہ کوئٹہ جیسے صوبائی دارالحکومت کے مرکزی علاقوں میں منشیات کا سرعام استعمال ایک سنجیدہ معاملہ ہے، جسے محض چند کارروائیوں عارضی کریک ڈان تک محدود نہیں رکھا جانا چاہیے شہریوں نے سٹی تھانے کے احاطے میں مبینہ ہوٹل کے قیام اور وہاں منشیات کے عادی افراد کو کھانے اور ناشتے کی فراہمی کی اطلاعات کی بھی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، جبکہ اگر الزامات بے بنیاد ہیں تو پولیس کو حقائق واضح کرتے ہوئے عوام کو آگاہ کرنا چاہیے شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی مقامات کو ہر قسم کی غیرقانونی سرگرمی سے پاک رکھنے کے لیے مثر اقدامات کریں۔ اس سلسلے میں پولیس کے اعلی حکام کو صورتحال کا نوٹس لے کر متعلقہ افسران سے رپورٹ طلب کرنی چاہیے عوامی حلقوں نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ کوئٹہ میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف جامع منصوبہ بندی کی جائے، منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی تیز کی جائے، بحالی مراکز کو فعال بنایا جائے اور خواتین سمیت نشے کے عادی افراد کے لیے علاج و بحالی کی سہولیات میں اضافہ کیا جائے شہریوں کا کہنا ہے کہ منشیات صرف ایک فرد کی زندگی کو متاثر نہیں کرتی بلکہ اس کے اثرات پورے خاندان اور معاشرے تک پہنچتے ہیں، اس لیے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے پولیس کارروائی کے ساتھ ساتھ صحت، تعلیم، سماجی بہبود اور عوامی آگاہی پر بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی۔
You might also like

