حزب اللہ کمانڈر کی شہادت کے بعد امریکا سے مذاکرات معطل کر دیے: باقر قالیباف

ایرانی میڈیا کے مطابق پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ میں ہونے والے آخری حملے میں حزب اللہ کی انٹیلی جنس کے سربراہ اپنے اہل خانہ سمیت شہید ہوئے، جس کے بعد ہم نے وہیں سب کچھ روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے واضح کر دیا تھا کہ آج رات ہم آپ کو اسی انداز میں جواب دیں گے اور اگر صہیونی حکومت نے ردعمل دیا تو ہم پورے خطے کو نشانہ بنائیں گے۔

 

ایرانی چیف مذاکرات کار کے مطابق اسی رات انہوں نے ناکہ بندی ختم کر دی، معاہدے کے 30 دن بعد نہیں، ٹرمپ نے ٹوئٹ کیا کہ ہم آج رات ناکہ بندی ختم کر رہے ہیں، تاہم اس کے نیچے انہوں نے لکھا کہ اس کے بدلے ایرانی آبنائے ہرمز بھی کھولیں گے۔

 

باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ جب میں نے یہ دیکھا تو میں نے اسے روک دیا اور کہا کہ ہمارا ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ میں نے ثالثوں سے کہا کہ اگر یہ ٹوئٹ ابھی حذف نہ کی گئی تو ہم اسی شدت سے حملہ کریں گے جس کا میں نے اعلان کیا ہے، 58 منٹ بعد ٹرمپ نے ٹوئٹ کا دوسرا حصہ حذف کر دیا اور لکھا کہ آبنائے ہرمز معاہدے کے تحت ہفتے کے روز کھولی جائے گی۔

 

باقر قالیباف نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ مذاکرات دراصل جدوجہد کا نام ہے۔

 

رپورٹ کے مطابق ایران کی بحری ناکہ بندی چند روز بعد دوبارہ شروع کر دی گئی اور تاحال جاری ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز دھمکی دی تھی کہ وہ آبنائے ہرمز کو امریکی سرزمین کا حصہ قرار دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

 

ایرانی حکام نے ان بیانات پر شدید تنقید کی ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ ’آبنائے ہرمز ہمیشہ ایرانی رہی ہے، آج بھی ایرانی ہے اور آئندہ بھی ایرانی رہے گی‘ اور اسے ’صرف ایران کی کمان میں ہی بند یا کھولا جائے گا۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. AcceptRead More

https://www.googletagmanager.com/gtag/js?id=G-HFZSG9BN9P