بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں جنتر منتر پر جاری احتجاج کے دوران ایک غیر متوقع واقعہ اس وقت پیش آیا جب کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے پر ایک خاتون نے اچانک سیاہی پھینک دی۔
واقعے کے باعث احتجاجی مقام پر کچھ دیر کے لیے ہنگامہ آرائی اور افراتفری کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ یہ واقعہ سماجی کارکن سونم وانگچک کو طویل بھوک ہڑتال کے بعد طبیعت خراب ہونے پر اسپتال منتقل کیے جانے کے چند گھنٹے بعد پیش آیا۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ابھیجیت دیپکے اپنے حامیوں سے خطاب میں مصروف تھے کہ اسی دوران قریب موجود ایک خاتون نے ان پر سیاہی پھینک دی۔ سیاہی کے چھینٹے اسٹیج پر موجود دیگر افراد کے کپڑوں پر بھی جا گرے۔ واقعے کے فوراً بعد احتجاج میں شریک افراد نے خاتون کو قابو کر لیا، اس کے ہاتھ سے سیاہی کی بوتل چھین لی اور اسے اسٹیج سے دور لے گئے، جس کے بعد اسے وہاں سے ہٹا دیا گیا۔
دہلی پولیس کے مطابق خاتون کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خاتون کی شناخت اور حملے کے محرکات کے بارے میں فوری طور پر کوئی حتمی معلومات سامنے نہیں آئیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنتر منتر پر میڈیکل داخلہ ٹیسٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں اور اس سے متعلق طلبا کی اموات کے خلاف احتجاج تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔ اسی احتجاج کے دوران 59 سالہ سماجی کارکن سونم وانگچک کو ہفتے کی صبح طبیعت بگڑنے پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں داخل کر لیا گیا۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق وانگچک تقریباً 20 روز سے بھوک ہڑتال پر ہیں اور انہیں شدید جسمانی کمزوری، پانی کی کمی، خون میں پوٹاشیم کی کمی سمیت متعدد طبی مسائل لاحق ہیں۔ ڈاکٹروں نے انہیں ڈرپ، او آر ایس اور ادویات لینے کا مشورہ دیا، تاہم انہوں نے علاج کی یہ سہولیات قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے باوجود انہیں مسلسل طبی نگرانی اور مشاورت فراہم کی جا رہی ہے۔
دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ سونم وانگچک کو دہلی ہائی کورٹ کی ہدایات اور ڈاکٹروں کی سفارش پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس کے مطابق منتقلی کے دوران بعض مظاہرین نے مزاحمت کرنے کی کوشش کی، تاہم تحمل سے کام لیتے ہوئے کارروائی مکمل کی گئی۔
دوسری جانب ابھیجیت دیپکے نے پولیس پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ احتجاج کے دوران ان پر تشدد کیا گیا، انہیں کچھ وقت کے لیے حراست میں رکھا گیا اور پُرامن مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کی گئی۔ انہوں نے اس کارروائی کے خلاف ملک گیر احتجاج کی اپیل بھی کی۔
سونم وانگچک کی اسپتال منتقلی کے بعد ابھیجیت دیپکے نے اعلان کیا کہ وہ احتجاج سے اظہارِ یکجہتی کے لیے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر رہے ہیں۔
