بالی ووڈ کے معروف اداکار عامر خان کو بھارت کے بدنامِ زمانہ لارنس بشنوئی گینگ کی جانب سے مبینہ دھمکی دیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد بھارتی پولیس نے معاملے کی جانچ کا آغاز کردیا ہے۔ مبینہ دھمکی ایک سوشل میڈیا پوسٹ اور وائس نوٹ کے ذریعے سامنے آئی، تاہم اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک پوسٹ میں خود کو لارنس بشنوئی گینگ سے وابستہ ظاہر کرنے والے آرزو بشنوئی اور ٹائسن بشنوئی نامی افراد نے عامر خان پر مبینہ طور پر ’’لَو جہاد‘‘ کی حمایت کا الزام عائد کیا۔ پوسٹ میں کہا گیا کہ اداکار ایسے نظریات کو فروغ دے رہے ہیں جو ان کے بقول ثقافتی اور مذہبی اقدار کے خلاف ہیں، اس لیے ’اس آدمی کو برداشت نہیں کریں گے‘ اور انہیں اس کے نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
اسی پوسٹ میں راجستھان کے ضلع سری گنگا نگر میں 13 سالہ لڑکی کے مبینہ اغوا اور زیادتی کے واقعے کا حوالہ بھی دیا گیا۔ گینگ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ اگر کسی نے بھی اس مقدمے کے ملزم کو قانون سے بچانے کی کوشش کی تو وہ خود کارروائی کرے گا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ممبئی پولیس کو اس مبینہ دھمکی کے بارے میں فیس بک پوسٹ اور ایک وائس نوٹ کے ذریعے اطلاع ملی، جس کے بعد متعلقہ اداروں نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ تاہم اب تک نہ تو عامر خان اور نہ ہی ان کی ٹیم کی جانب سے اس معاملے میں کوئی باضابطہ شکایت درج کرائی گئی ہے۔
واضح رہے کہ لارنس بشنوئی گینگ اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ بالی ووڈ اداکار سلمان خان کو دھمکیاں دے چکا ہے۔ 2024 میں سلمان خان کی ممبئی رہائش گاہ کے باہر ہونے والی فائرنگ کی ذمے داری بھی اسی گینگ نے قبول کی تھی۔ گینگ کا مؤقف رہا ہے کہ وہ 1998 کے مبینہ کالے ہرن شکار کیس کے باعث سلمان خان کو اپنا ہدف بنائے ہوئے ہے۔
