فٹبال میں ارجنٹینا اور انگلینڈ دشمنی کی تاریخ کتنی پرانی، وجہ کیا بنی؟ دلچسپ رپورٹ

فیفا ورلڈ کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں آج سخت رقیب ارجنٹینا اور انگلینڈ 24 سال بعد ایک دوسرے کیخلاف میدان میں اتریں گے۔

کرکٹ میں جس طرح پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید رقابت پائی جاتی ہے اور ان کے مقابلوں کو جوش اور اسی رقابت کے باعث پاک بھارت جنگ یا پاک بھارت ٹاکرا کہا جاتا ہے۔ اسی طرح فٹبال کے میدان میں ارجنٹینا اور انگلینڈ بھی صرف مخالف ٹیمیں نہیں بلکہ ایک دوسرے کی سخت رقیب ہیں۔

ارجنٹینا اور انگلینڈ کے درمیان یہ رقابت کب پیدا ہوئی اور اس کی وجہ کیا بنی۔ اس کے دلچسپ ماضی سے پردہ اٹھاتے ہیں۔

ارجنٹینا اور انگلینڈ دونوں ٹیمیں فٹبال کی دنیا کی دو بڑی طاقتوں میں شمار ہوتی ہیں۔ ارجنٹینا جو دفاعی چیمپئن ہونے کے ساتھ تین بار کی عالمی چیمپئن ہے جب کہ انگلینڈ نے پہلی اور آخری بار ٹرافی 1962 میں اٹھائی تھی۔

دونوں ٹیموں کے درمیان رقابت نصف صدی سے بھی زائد پرانی ہے۔ تاہم اس دشمنی کا سب سے مشہور ہونے والا واقعہ 40 سال قبل ہونے والے فیفا ورلڈ کپ میں میراڈونا کے مشہور زمانہ ہینڈ آف گاڈ والا گول ہے۔

ارجنٹینا اور انگلینڈ کے درمیان پہلا میچ 1962 میں کھیلا گیا، مگر دشمنی کا آغاز 1966 کا فیفا ورلڈ کپ بنا، جہاں دونوں ٹیموں کے درمیان فٹبال کم کھیلی گئی اور زور آزمائی کا مظاہرہ زیادہ ہوا۔

اس وقت کے دفاعی چیمپئن انگلینڈ کے خلاف اس میچ میں ارجنٹینا کے کپتان انٹونیو ریٹین کو متنازع انداز میں میدان سے باہر بھیج دیا گیا۔ اس وقت ریڈ اور یلو کارڈ کا نظام موجود نہیں تھا، جس کی وجہ سے ریٹین نے میدان چھوڑنے میں ہچکچاہٹ دکھائی اور 10 منٹ تک میدان نہیں چھوڑا۔

معاملہ یہاں ہی نہیں رکا بلکہ انگلینڈ نے جب یہ میچ ایک، صفر سے جیت لیا، تو مقابلے کے بعد انگلینڈ کے کوچ الف رمزی نے ارجنٹائن کھلاڑیوں کو ’جانور‘ قرار دیا، جس نے جلتی پر تیلی کا کام کیا اور اس کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان تلخی مزید بڑھ گئی۔

تاہم انگلینڈ اور ارجنٹینا کی دیرینہ دشمنی کا سب سے مشہور زمانہ مقابلہ 1986 کے فیفا ورلڈ کپ کا کوارٹر فائنل تھا، جہاں ارجنٹینا کے میراڈونا نے مشہور زمانہ ہینڈ آف گاڈ والا گول کیا۔

اس متنازع گول پر انگلش کھلاڑی احتجاج کرتے رہے، مگر ریفری نے اپنا فیصلہ نہ بدلا۔

صرف چند منٹ بعد میراڈونا نے اپنی ہی نصف پچ سے گیند لے کر 5 انگلش کھلاڑیوں اور گول کیپر کو چکمہ دیتے ہوئے ایک شاندار انفرادی گول اسکور کیا، جسے فیفا نے بعد میں ’گول آف دی سنچری‘ قرار دیا۔

پھر ورلڈ کپ 1998 آیا تو ارجنٹینا کے کپتان ڈیگو سیمیونے اور انگلینڈ کے ڈیوڈ بیکھم کے درمیان پیش آنے والے واقعے نے اس دشمنی کو زندہ کیا اور فٹبال کی نا خوشگوار یادوں میں ایک اور کا اضافہ ہوا۔

میچ میں ارجنٹینا کے کھلاڑی کو کک کرنے پر ڈیوڈ بیکھم کو ریڈ کارڈ ملا۔ انگلینڈ کو پینلٹی شوٹ آؤٹ پر شکست کے بعد میڈیا نے گولڈن بوائے کو ولن بنا دیا۔

سال 2002 میں دونوں ٹیمیں آخری بار فیفا ورلڈ کپ میں ایک دوسرے سے ٹکرائیں۔ برطانوی ٹیم اور کپتان ڈیوڈ بیکھم نے گروپ اسٹیج کے میچ کا واحد گول پینلٹی پر جیت کر 1998 کا بدلہ لے لیا۔

آج 24 سال کے طویل عرصے کے بعد دونوں روایتی ٹیمیں ایک بار پھر میدان میں اتر رہی ہیں۔ اس بار اسٹیڈیم اٹلانٹا، میچ ہے سیمی فائنل، دنوں ٹیموں کے کھلاڑی بھی سابقہ مقابلے سے بالکل تبدیل، لیکن ایک چیز جو نہیں بدلی اور نہ بدلے گی، وہ ہے دونوں ٹیموں کی روایتی دشمنی اور شائقین کا ایک دوسرے کے خلاف مخاصمانہ رویہ۔

سابقہ تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹلانٹا انتظامیہ نے آج سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہوئے ہیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. AcceptRead More

https://www.googletagmanager.com/gtag/js?id=G-HFZSG9BN9P