’علی مرتضیٰ سے 7 محرم کو ملاقات ہوئی تو منع کیا تھا کوئٹہ مت جاؤ‘

بلوچستان میں دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے علی مرتضیٰ کے والد کا کہنا ہے کہ بیٹے کو منع کیا تھا کہ 7 محرم کو ملاقات ہوئی تو منع کیا تھا کہ کوئٹہ مت جاؤ۔

مقتول علی مرتضیٰ کے والد جمیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ بھی ہوا بہت غلط ہوا، آئندہ کسی کے ساتھ ایسا نہیں ہونا چاہیے، بلوچستان کی حکومت رابطے میں ہے سانحہ کا کوئی ازالہ نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے کہا کہ علی کوئٹہ جانے کے لیے پرجوش تھا اس نے وہاں جاکر رابطہ کیا تو خوش تھا، بیٹے کو بولا کھانا کھاکر نکلتا ہوں اور پھر وہ رات میں وہاں سے نکلے۔

مقتول کے والد نے بتایا کہ میری بہو نے کال کرکے بتایا کہ 5 گھنٹے ہوئے کوئی بچانے والا نہیں، مجھے بھی پانچ گولیاں لگی ہیں۔

مقتول کے والد نے بتایا کہ بہو زخمی ہونے کے بعد 5 گھنٹے تک اکیلی رہی، بہو بچی کو تلقین کرتی رہی کہ مجھے کچھ ہوجائے تو پھوپھو کے نمبر پر کال کرتی رہنا، بہو نے صبح 6 بجے وصیت لکھوانا شروع کردی تھی۔

والد جمیل نے کہا کہ پہلے مجھے معلوم ہوا کہ گاڑی مل گئی لیکن بہو اور بچیاں نہیں ملیں، پھر 15 منٹ بعد علم ہوا کہ بہو اور بچیاں مل گئی ہیں، حکومت سندھ نے تاحال داس رسی تک نہیں کی۔

پولیس کا کہنا تھا کہ علی مرتضیٰ نے لاعلمی میں محفوظ راستہ چھوڑ کر خطرناک راستہ اختیار کرلیا تھا، جائے وقوعہ سے ایس ایم جی کے خول برآمد ہوئے، دہشت گردوں کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. AcceptRead More

https://www.googletagmanager.com/gtag/js?id=G-HFZSG9BN9P