کوئٹہ(یو این اے ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وزیراعلی سرفراز بگٹی کے ساتھ مل کر پانچ سالہ عوامی ایجنڈا مکمل کریں گے عوام دوست سیاست اور پسماندہ طبقات کی خدمت ہی پیپلز پارٹی کا منشور ہے پرائمری ہیلتھ کیئر نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے، 64 بی ایچ یوز کو فنکشنل کرنا انقلابی قدم ہے رقبے کے لحاظ سے بڑے صوبے بلوچستان کے لیے ایئر ایمبولینس ناگزیر ضرورت تھی بلوچستان میں سندھ کی طرز پر انقلابی منصوبوں کا آغاز، دو سال میں ریکارڈ ترقیاتی کام ہوئے ملک دشمن قوتیں بلوچستان کی ترقی نہیں چاہتیں، خلوصِ نیت سے کام کرنے والے ہی کامیاب ہوں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز چیف منسٹر سیکرٹریٹ کوئٹہ میں محکمہ صحت بلوچستان کے مکمل شدہ منصوبوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیابلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ گورنر بلوچستان شیخ جعفر مندوخیل، ڈاکٹر مالک بلوچ، اراکینِ پارلیمنٹ اور پارٹی کارکنوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاست کا محور ہمیشہ سے عوام دوستی اور غریب پروری رہا ہے، اور ہم پسماندہ علاقوں اور محروم طبقات کی خدمت کو اپنی اولین ترجیح سمجھتے ہیں اگر حکومت عام آدمی کی مدد کرے اور اسے معاشی و سماجی طور پر طاقتور بنائے، تو اس سے نہ صرف ملک مضبوط ہوگا بلکہ پاکستان کی معیشت کو بھی حقیقی معنوں میں طاقت ملے گی پیپلز پارٹی ایسے منصوبوں پر یقین رکھتی ہے جن کے ثمرات براہِ راست عام آدمی تک پہنچیں اور ان کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی آ سکے انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی اور علاقائی صورتحال کے باعث پیدا ہونے والے معاشی بحران نے پسماندہ طبقات کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، لیکن پیپلز پارٹی کے نظریے کے مطابق صحت کی سہولیات ہر شہری کا حق ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ریاست میں ایسا نظام نہیں ہونا چاہیے جہاں صرف امیر کا علاج ہو سکے اور غریب وسائل نہ ہونے کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار جائے؛ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ پبلک ہیلتھ سیکٹر کی مضبوطی پر توجہ دیتی ہے جب سے انہوں نے سیاست میں قدم رکھا ہے، ان کا واحد مقصد عوام کو مفت اور معیاری علاج کی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنا رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان اور پاکستان کے ہر شہری کو یہ حق ملنا چاہیے کہ وہ اپنے، اپنے بچوں اور بزرگوں کا علاج بغیر کسی مالی بوجھ کے کروا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ہدف ایسے طبی ڈھانچے کا قیام ہے جو کسی بھی معاشی امتیاز کے بغیر انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنائے اور جدید ترین طبی سہولیات عام آدمی کی پہنچ میں ہوں انہوں نے کہا ہے کہ حکومت سازی کے وقت انہوں نے وزیراعلی بلوچستان کو سندھ کے مثبت تجربات اور کامیاب ماڈلز کو یہاں لاگو کرنے کی تجویز دی تھی، جس پر وزیراعلی سرفراز بگٹی اور ان کی ٹیم نے محض دو سال کے اندر توقعات سے بڑھ کر کام کر کے دکھایا ہے صوبے میں متعدد منصوبوں پر کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ جاری منصوبوں کی تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہے، جنہیں پانچ سالہ مدت کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے وزیراعلی اور ان کی انتظامیہ نے آج 20 منصوبوں کے افتتاح کی تیاری کر رکھی تھی، تاہم انہوں نے اسے دو مراحل میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ عوامی فلاح کے ان کاموں کا تسلسل برقرار رہے۔ آج کے دورے میں 11 اہم منصوبوں کا افتتاح کر دیا گیا ہے، جبکہ بقیہ 9 منصوبوں کا افتتاح عید اور گلگت بلتستان کی انتخابی مہم کے فورا بعد کوئٹہ واپسی پر کیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پیپلز پارٹی بلوچستان کے عوام کی خدمت کے اس سفر کو تیزی سے جاری رکھے گی انہوں نے کہا ہے کہ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کے لیے ایئر ایمبولینس کی سہولت ایک ناگزیر ضرورت تھی۔ یہ سروس دشوار گزار علاقوں میں جہاں باقاعدہ ہوائی پٹیاں موجود نہیں ہیں، وہاں سے بھی مریضوں کو اٹھا کر کوئٹہ یا کراچی کے بڑے اسپتالوں تک فوری منتقل کر سکے گی، جس سے صوبے میں طبی کنیکٹیوٹی اور عوامی ریلیف میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ یہ ٹراما سینٹر آئی سی یو اور ایچ ڈی یو جیسی تمام جدید سہولیات سے لیس ہے اور یہ بلوچستان کا پہلا ‘پیپر لیس(ڈیجیٹل)پبلک اسپتال ہے جہاں 100 فیصد مفت اور معیاری علاج فراہم کیا جائے گا۔ یہ ادارہ اپنی بہترین کارکردگی کی بنیاد پر جلد پاکستان کے بڑے اسپتالوں کا مقابلہ کرے گا انہوں نے بلوچستان میں بنیادی مراکزِ صحت (BHUs) کی بحالی اور انہیں فعال بنانے کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پرائمری ہیلتھ کیئر کسی بھی ملک کے طبی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔حکومتِ سندھ کی طرح اب حکومتِ بلوچستان بھی مہنگے ترین علاج (ٹریژری کیئر)کے ساتھ ساتھ بنیادی صحت کی سہولیات مفت فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے بلوچستان میں 64 بنیادی مراکزِ صحت کو آپریشنل کرنا ایک خوش آئند قدم ہے، جس کے ذریعے بلوچستان کے عوام کو ان کے گھر کی دہلیز پر علاج کی سہولت میسر آئے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بی ایچ یوز اور بی ایچ یو پلس مراکز ہی وہ بنیادی ادارے ہیں جو بڑے اسپتالوں پر بوجھ کم کرتے ہیں اور دور دراز علاقوں کے غریب عوام کو فوری ریلیف فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت کو ہدایت کی کہ اس عمل کو مزید وسعت دی جائے تاکہ صوبے کا کوئی بھی شہری بنیادی طبی سہولیات سے محروم نہ رہے انہوں نے کہا ہے کہ چائلڈ لائف فانڈیشن کے ساتھ مل کر کیا جانے والا کام انتہائی متاثر کن ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اس وقت پورے پاکستان میں بچوں کی شرحِ اموات کے حوالے سے بلوچستان کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن جس تیزی سے اس نظام کو بہتر بنایا جا رہا ہے، وہ جلد مثبت نتائج دے گا۔بلاول بھٹو زرداری نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب سندھ، خاص طور پر تھرپارکر میں بچوں کی شرحِ اموات سب سے زیادہ تھی، لیکن وہاں مسلسل محنت اور عوامی شراکت داری کے ذریعے صورتحال کو تبدیل کیا گیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سندھ کے اسی کامیاب ماڈل اور تجربات کو اب بلوچستان میں بروئے کار لایا جا رہا ہے تاکہ یہاں کے بچوں کو بھی وہی جدید اور معیاری طبی سہولیات میسر آ سکیں جو ان کا بنیادی حق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پختونخوا اور بلوچستان کے حالات کا اثر پورے ملک پر ہوتا ہے، اس لیے یہاں صحت کے ڈھانچے کو مضبوط کرنا ہماری اولین ترجیح ہے انہوں نے کہاہے کہ پاکستان اور بلوچستان کے خلاف کیے جانے والے منفی پروپیگنڈے کا سب سے موثرجواب حکومتی کارکردگی، عوامی خدمت اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل ہے صوبائی حکومت کی محنت اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرنے کی صلاحیت ہی ان قوتوں کو شکست دے گی جو ملک اور صوبے کی ترقی میں رکاوٹ بننا چاہتی ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا کہ اگرچہ بہت سے شعبوں میں حکومت، ریاست اور سیاسی جماعتوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، لیکن اگر اسی خلوصِ نیت اور جذبے کے ساتھ محنت جاری رہی تو کامیابی یقینی ہے ہم ان تمام منفی قوتوں کو شکست دیں گے جو بلوچستان اور پاکستان کو پسماندہ دیکھنا چاہتی ہیں۔ یہ اصل کامیابی ان لوگوں کے مقدر میں ہے جو پسماندہ علاقوں اور محروم طبقات کی خدمت کو اپنا مقصد بناتے ہیں۔
Trending
- 75 سالوں سے وفاق نے بلوچستان کو نظر انداز کیا گیا ہے ‘نوابزادہ خالد مگسی
- وزیراعلی سرفراز بگٹی کے ساتھ مل کر پانچ سالہ عوامی ایجنڈا مکمل کریں گے، بلاول بھٹو
- نوکنڈی ‘ کوئٹہ تفتان روڈ پر ڈکیتی کی واردات میں ملوث ملزمان گرفتار
- گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور دیگرکے اغوا کا معاملہ تاحال حل نہ ہوسکا
- حب میں معمولی تنازعے پرفائرنگ سے دو خواتین سمیت 3افراد جاں بحق جبکہ ایک خاتون زخمی
- بلوچستان میں ترقیاتی اور طبی منصوبوں کا جال بچھا دیا ہے ‘ سرفراز بگٹی
- رکن قومی اسمبلی ملک عادل خان بازئی کے سابق ڈی سی کوئٹہ پر سنگین الزامات
- بلوچستان میں سورج آگ برسانے لگا، تربت اور لسبیلہ میں پارہ 47 ڈگری تک پہنچ گیا
- پی بی 36 قلات میں میر ضیا اللہ لانگو کی کامیابی برقرار
- لورالائی ‘شہر میں پرائس کنٹرول اور تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ مزید تیز
You might also like