کوئٹہ (آن لائن) صوبائی وزرائ، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی و دیگر اداروں کے نمائندوں اور خواتین نے کہا ہے کہ بلوچستان میں قانون سازی کے ذریعے خواتین اور لڑکی کی صحت، وقار اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ خواتین کی بہتری کے لئے سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر کام کرنا ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی ، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی اختر بی بی، اراکین صوبائی اسمبلی میر رحمت صالح بلوچ ،خیر جان بلوچ، چیئرپرسن بلوچستان ریونیو اتھارٹی (بی آر اے) عبداللہ خان، یونیسیف کی فلک ناز ،شازیہ نذیر، ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) بلوچستان کی سربراہ ڈاکٹر فاریہ احسن اور یو این ویمن بلوچستان کی سربراہ عائشہ ودود ،ایم ایچ ایم ورکنگ گروپ کی چیئرپرسن ڈاکٹر طاہرہ کمال بلوچ ، شفقت عزیز، شاہانہ تبسم سمیت دیگر نے ایم ایچ ایم ٹیکس اصلاحات اور خواتین کی صحت سے متعلق اہم مشاورتی اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں خواتین کی صحت سے متعلق امور پر مل کر کام کرنے کا عزم کا اعادہ کرتے ہوئے شرکاءنے کہا ہے کہ صوبائی سیاسی قیادت قانون سازی کے ذریعے بلوچستان میں خواتین اور لڑکیوں کی صحت، وقار اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے پر عزم ہے۔اور خواتین کی بہتری کےلئے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اور اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس کا مقصد خواتین کی صحت اور حفظان صحت (MHH) سے متعلق ٹیکس اصلاحات کے لیے اسمبلی کی مشترکہ قرارداد کی حکمت عملی تیار کرنا تھا۔ ایم ایچ ایم ورکنگ گروپ (MHHWG) سیکرٹریٹ بلوچستان اور یونیسیف پاکستان کے اشتراک سے منعقدہ اس مشاورتی اجلاس میں اہم پالیسی سازوں، انتظامی حکام اور بین الاقوامی ترقیاتی شراکت دار شریک ہوئے۔جنہوں نے اس اقدام کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ صحت کی بنیادی ضروریات کی راہ میں حائل مالی رکاوٹوں کو دور کرنا ایک مشترکہ قانون ساز ذمہ داری ہے جس کے لیے فوری طور پر تمام جماعتوں میں اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر طاہرہ کمال بلوچ نے متفقہ موقف اپنانے پر اراکین اسمبلی، سرکاری حکام اور یونیسیف کا شکریہ ادا اور فورم کو بنیادی ایجنڈے پر بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کی صحت کی ضروری مصنوعات پر ٹیکسوں کو کم یا ختم کر کے پسماندہ طبقات پر معاشی بوجھ کو کم کرنا صحت عامہ کی ایک اہم ترجیح ہے۔اس لئے کہ بنیادی کام مکمل ہو چکا ہے، اور اب کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے اسے فوری طور پر قانون سازی کی شکل دینے کی ضرورت ہے۔ انتظامی نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے، چیئرپرسن بی آر اے عبداللہ خان نے اس عمل میں شامل مالیاتی طریقہ کار پر روشنی ڈالی اور اس اہم سماجی اقدام کو آسان بنانے کے لیے صوبائی ریونیو فریم ورک کے اندر مجوزہ ٹیکس چھوٹ کا جائزہ لینے کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار کیا۔ شرکاءکو مجوزہ قرارداد کے تکنیکی خدوخال بیان کیے۔ اور جاری مشاورتی عمل اور آپریشنل فریم ورک کے بارے میں آگاہ کیا، اور پالیسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں تمام ترقیاتی شراکت داروں کی جانب سے فراہم کی جانے والی اہم تکنیکی معاونت کا اعتراف کیا۔ مجوزہ مشترکہ قرارداد کا مقصد خواتین کی صحت اور حفظان صحت (MHH) کی ضروری مصنوعات پر صوبائی ٹیکسوں میں 50 فیصد کمی یا مکمل خاتمہ کو یقینی بنانا ہے، اس اقدام کا مقصد معاشرے کے سب سے کمزور طبقات کے لیے ان بنیادی ضروریات کو سستا اور قابل رسائی بنانا ہے۔ آئندہ کے لائحہ عمل پر بات کرتے ہوئے، شرکاءنے قانونی مسودہ تیار کرنے کے عمل کو تیز کرنے پر اتفاق کیا، اور قانون سازوں نے اس قرارداد کی ملکیت لینے اور اسے بلوچستان اسمبلی میں پیش کرنے کا عہد کیا، جو خطے میں خواتین پر مرکوز پالیسی اصلاحات کی ایک بہترین مثال قائم کرے گا۔
You might also like